Islam Times:
2026-06-03@00:26:04 GMT

حزب اللہ زندہ و پائیدار ہے، علی لاریجانی

اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT

حزب اللہ زندہ و پائیدار ہے، علی لاریجانی

شہید سید حسن نصر اللہ کی قبر پر حاضری کے دوران یہ بیان کرتے ہوئے کہ حزب اللہ لبنان ایک زندہ و پائیدار تحریک ہے، سیکرٹری جنرل ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے تاکید کی کہ حزب اللہ اسلام کیلئے عزت و فخر کا باعث ہے اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری جنرل ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل علی لاریجانی نے لبنانی مزاحمتی تحریک کے شہید سربراہ سید حسن نصر اللہ کی قبر پر حاضری دی جہاں اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان دین مبین اسلام کے لئے عزت و فخر کا باعث ہے۔ علی لاریجانی نے حزب اللہ لبنان کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برادران! ممکن ہے کہ آپ کے ساتھ بدتمیزی کی جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کی نسبت کینہ رکھیں.

. یہ سب آپ کی اہمیت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے ہے.. اگر آپ کی تحریک کا کوئی اثر نہ ہوتا تو وہ بھی آپ کی نسبت اتنا کینہ نہ رکھتے! علی لاریجانی نے شہید سید حسن نصر اللہ کی قبر پر موجود حزب اللہ کے جوانوں کے نعروں کے جواب میں کہا کہ حزب اللہ لبنان کے ساتھ تعلق رکھنے والے نوجوانو! صالح و بہادر لوگو! تمام مسلمان تمہارے وجود پر فخر کرتے ہیں.. اور اگر تم شہید سید حسن نصر اللہ کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو آج تمہارا فرض ہے کہ اپنی مزاحمت میں ثابت قدم رہو!
  سیکرٹری جنرل ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعلان کر رکھا ہے اور ایک بار پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی حمایت کرتے رہیں گے۔ علی لاریجانی نے تاکید کی کہ ہم ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے لیکن ہم مزاحمتی تحریکوں کی ہمیشہ حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام دلائل کے باوجود جو میڈیا میں آپ کے خلاف کہے جاتے ہیں، آپ کا راستہ واضح ہے اور آپ فتح مند ہیں اور اللہ آپ کا مددگار و محافظ ہے! انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ ایک عظیم انسان اور عالم اسلام کا عظیم اثاثہ ہیں جنہوں نے خدا کی راہ میں جدوجہد کے لئے جو تحریک پیدا کی وہ اسلامی معاشروں کے لئے ایک حقیقی و دیرپا محرک ہے۔
  یہ بیان کرتے ہوئے کہ ان کی شخصیت کی متعدد جہات ہیں، انہوں نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ کے بارے میڈیا میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ زیادہ تر ان کی جدوجہد سے متعلق خصوصیات ہیں جبکہ اس الہی ہستی کی ایک اور جہت ان کی مستند اسلامی فکر ہے.. وہ گہری اسلامی فکر کے حامل تھے جبکہ ان کی ایک دوسری جہت ان کی عرفانہ سوچ ہے لہذا وقتی حالات ان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے تھے۔ علی لاریجانی نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ ایک خود ساختہ آدمی تھے.. ایک بار انہوں نے لبنان و شام کی سرحد پر ملاقات کا اہتمام کیا.. اس رات انہوں نے کچھ ایسے نکات اٹھائے کہ جن سے مجھ پر واضح ہو گیا کہ میرا سامنا ایک ایسے شخص سے ہے جو خدا کی راہ میں فنا ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ رستہ کہ جو شہید سید حسن نصراللہ نے اپنے سپوتوں کے سامنے رکھا ہے، وہ رستہ ہے کہ جس میں معنوی کمال کے ساتھ ساتھ عقلی و علمی جہاد بھی شامل ہے.. وہ ہمارے درمیان سے تو چلے گئے لیکن ان کے سپوت، اس اصلی تحریک میں کہ جسے انہوں نے زندہ کیا، آج بھی زندہ و پائیدار ہیں!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہید سید حسن نصر سید حسن نصر اللہ علی لاریجانی نے حزب اللہ لبنان کرتے ہوئے کہ کہ حزب اللہ نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید