وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت اہم اجلاس کا انعقاد، شیعہ رہنماؤں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اجلاس سے خطاب میں ضیاء لنجار نے کہا کہ تمام مساجد، امام بارگاہوں پر محرم کی مناسبت سے حفاظتی اقدامات کو ناصرف انتہائی مؤثر اور مربوط بنایا جائے بلکہ محرم کنٹی جینسی پلان کے مطابق یکم تا عاشور جبکہ عاشورہ کے بعد رات گئے گھروں کو واپس جانیوالے شہریوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی زیر صدارت اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں محرم 2025ء کے دوران حفاظتی اقدامات، پولیس،رینجرز اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کی حکمت عملی اور لائحہ عمل کا تفصیلی احاطہ کیا گیا اور اس تناظر میں مذید ضروری ہدایات دی گئیں۔ اجلاس میں شریک تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس موقع پر مشترکہ سیکیورٹی اقدامات اور لائحہ عمل پر علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی اور اپنے اہداف و ترجیحات کا احاطہ کیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے محرم کے حوالے سے درپیش ایشوز و مسائل کے حل سے متعلق میئر کراچی، دو علما اکرام، سیکریٹری لوکل گورمنٹ پر مشتمل 04 رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال محرم الحرام کے جائزہ پر مشتمل اجلاس عیدالاضحی سے قبل ہوگا اور اس دوران درپیش سوک ایشوز کا احاطہ کرنا اس کمیٹی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں مزید کہا کہ کل میں میئر کراچی، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور کراچی الیکٹرک سے اس ضمن میں علیحدہ سے ملاقات/اجلاس کرونگا اور موجودہ جملہ سوک ایشوز کے حل کے حوالے سے مثر لائحہ عمل پیش کرونگا۔
انہوں اجلاس میں شریک علما و دیگر اکابرین سے کہا کہ محرم الحرام کے حوالے سے پولیس آپ سے ناصرف مکمل تعاون کریگی بلکہ مسلسل روابط کے اقدامات کو بھی یقینی بنائے گی جس کا مقصد باہمی تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل سے محرم کو ہر لحاظ سے محفوظ اور پرامن بنانا ہے۔ صوبائی وزیر نے شرکاء سے کہا کہ برآمد ہونیوالے تمام چھوٹے بڑے جلوسوں اور مجالس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی کور دیا جائے جبکہ محرم الحرام 2025ء کنٹی جینسی پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے پولیس ڈپلائمنٹ کو سیکیورٹی فرائض سے متعلق بریفنگ کے عمل کے لیئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور پرامن محرم کے حوالے سے صوبائی سطح پر اہل تشیع، اہلسنت اور دیگر مکاتب فکر سے وابستہ علما، اکابرین سمیت معروف مذہبی شخصیات سے شیڈول اجلاس بھی ترتیب دیئے جائیں جس کا مقصد بین المسالک ہم آہنگی اور فروغ جیسے اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر علماء، اکابرین اور دیگر معزز شخصیات اپنے انفرادی و اجتماعی کردار سے محرم کو انتہائی محفوظ اور پر امن بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنائیں۔ علاوہ ازیں تمام مجالس کے مقامات، جلوسوں کے روٹس و دیگر اجتماعات پر دستیاب فہرستوں کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کو مثر اور مربوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے حوالے سے ترتیب کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کا تمام اسٹیک ہولڈرز کو پابند بنایا جائے جبکہ دستیاب فورتھ شیڈول لسٹ پر قانون کے مطابق عمل درآمد جیسے اقدانات میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مساجد، امام بارگاہوں پر محرم کی مناسبت سے حفاظتی اقدامات کو ناصرف انتہائی مؤثر اور مربوط بنایا جائے بلکہ محرم کنٹی جینسی پلان کے مطابق یکم تا عاشور جبکہ عاشورہ کے بعد رات گئے گھروں کو واپس جانیوالے شہریوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے حوالے سے اقدامات کو بنایا جائے لائحہ عمل کے مطابق کہ محرم
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔