محرم کے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت چیکنگ کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی و دیگر انتظامات کے حوالے سے اجلاس ہوا۔
محسن نقوی نے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت چیکنگ کا حکم دیا ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر شریک ہوئے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اشتعال انگیز مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس اور سوشل میڈیا کی کڑی مانیٹرنگ ہوگی، جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کے کھانے پینے کے انتظامات کا خصوصی خیال رکھا جائے، ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے قریبی رابطہ رکھا جائے، ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر داخلہ نے معاشرے کے تمام طبقات سے محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی یقینی بنانے کی اپیل کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران اسلام آباد میں 181 جلوس اور 965 مجالس کا انعقاد کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔