سپیکر قومی اسمبلی کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2025ء)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نیجنوبی وزیرستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپریشن میں شہید میجر معیز عباس اور لانس نائیک جبران اللہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ بدھ کو اپنے پیغام میں سپیکر نے کہا کہ جری سپوتوں نے 11 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو واصلِ جہنم کر کے بہادری کی مثال قائم کی۔
(جاری ہے)
سپیکر نیشہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قوم ا?پ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی ،میجر معیز عباس اور لانس نائیک جبران اللہ نے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کو ناکام بنایا،شہدا نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے،ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی مسلح افواج اور ان کے بہادر جوانوں پر فخر ہے،دشمن ان جوانوں کی موجودگی میں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔سپیکر سردار ایاز صادق نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔