ڈیجٹیلائزیشن کے مثبت کے ساتھ منفی پہلوؤں سے خود بھی آگاہ ہوں اور دیگر کو بھی آگاہ کریں، چیف سیکرٹری
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام انٹرن شپ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلام ٹائمز۔ چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر خوشحال خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ڈیجیٹلائزیشن نے جہاں دنیا میں روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کیے وہاں ہی اس کے منفی استعمال سے سیاسی، معاشرتی اور معاشی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔ نوجوان پروپیگنڈہ مشین کے آلہ کار بننے کے بجائے تحقیق پر توجہ دیں تاکہ معاشرے میں امن قائم رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام انٹرن شپ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگو یجز محمد رفاقت خان اور ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے خطاب کیا۔چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو انٹرن شپ، تحقیقی کام، یوتھ ڈائیلاگ پروگرامز، ورکشاپس اور دیگر پروگراموں کے انعقاد پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجٹیلائزیشن کے مثبت کے ساتھ منفی پہلوؤں سے خود بھی آگاہ ہوں اور دیگر کو بھی آگاہ کریں۔موجودہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پر موجود ہر خبر سچ نہیں ہوتی جس کی بلا تصدیق و تحقیق پھیلانے کی عادت نے معاشرے کو نااتفاقی کا شکار کر دیا اور لوگوں کے اندر نفرت کے جذبات کو فروغ دیا، ضرورت اس امر کی ہے پروپیگنڈہ کی جگہ تحقیق کو فروغ دیا جائے اور تحقیق پر توجہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہر طالب علم میں سچ جاننے کی جستجو پیدا ہو اور معاشرہ پروپیگنڈہ اور الزام تراشی کے بجائے حقائق کی بنیاد پر رائے عامہ ہموار ہو۔ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم سب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ آخر میں چیف سیکرٹری خوشحال خان کو سیکرٹری کشمیر کاز رفاقت خان نے ادارہ کی جانب سے شیلڈ پیش کی۔ انٹرن شپ پروگرام میں آزاد کشمیر اور پاکستان کی نامور جامعات سے 25 طلبا کو منتخب کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف سیکرٹری بھی آگاہ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔