Juraat:
2026-06-03@02:05:55 GMT

خبر کے بھید

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

خبر کے بھید

جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریں اختر

 

لفظ ‘خبر ‘ پر جتنا غور کرو ،اس کے عقدے ہیں کہ کھلتے چلے جاتے ہیں ،اس کے اسرار ہیں کہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اس کی برق رفتار نے اس کی عمر گھٹادی ، توکیا واقعی ایسا ہوا؟
وہ واقعہ جو خبر بنتاہے ،محدوددائرہ (خاندانی ،مقامی ،علاقائی) اور وسیع(ملکی و بین الاقوامی) اثرات پر محیط ہوتاہے۔ جس کو محدود دائرہ قرار دے رہی ہوں وہ مکانیت کے اعتبار سے ہے، اثر کے اعتبارسے تو وہ مرگ تک پہنچتے ہیں۔تاریخ ایسے واقعات سے بھی اٹی پڑی ہے جو ہر دائرے میں گھومتے ہیں ، مثال آرمی پبلک اسکول پشاور کا واقعہ ، محدود سطح پر ایک ایک خان دان جس طرح متاثر ہوا، اجتماعی سطح پر تمام خان دان اور اسکول سے وابستہ رہنے والے ، قومی سطح پر تاریخ کا بد ترین واقعہ ، بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کا بڑا واقعہ ۔۔۔لیکن قیامت کہاں ٹھہری ، شہداء کے لواحقین پر،تاحیات ،تادم مرگ، ان کے دکھ کاکچھ اندازہ وہی کرسکتے ہیں جنہوں نے اسی طرح اپنے کسی پیارے کو کھویا ہوگا۔ تمام حساس اذہان اس کے متاثرین میں شامل ہیں۔
حالیہ خضدار میں آرمی پبلک اسکول پر خبروں کے مطابق خود کش حملہ یا ایک کارمیں نصب ٹائم بم،دہشت گردانہ کاروائی تو دونوں صورتوں میں ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ایک باپ نے اپنے سارے بچے کھودیے ، دیگر ذرائع کے مطابق عیشا سلیم اور سحر سلیم دو بہنیں شہید ہوئیں ، ان کا بھائی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تھا اور ایک بھائی نے اس دن چھٹی کی تھی ۔ یہ اس خاندان کے لیے قیامت سے کیا کم ہے ۔
پہلگام واقعہ ، چھبیس خان دان جو براہ راست متاثر ہوئے اور یہ غم اب ان کی زندگیوںکا ساتھی ہے ، پھر جو ہوا؟بی بی سی کی بہترین رپورٹ جس میں سرحد کے دونوں اطراف گولہ باری کا نشانہ بننے والے گھرانوں کے متعلق بتایاگیا، خبر کی سرخی میں تھا کہ ”اب ہمارے بچے تو واپس نہیں آسکتے۔”
وہ جو طبی ویزے لے کر انڈیا گئے تھے انہیں بھی واپس آنا پڑا، اثرات کا دائرہ ہے کہ پھیلتا ہی چلا جاتاہے۔
لفظوں کی بھی دوطرفہ گولی باری۔۔۔عیاںبھی اور نہاںبھی۔۔۔”آپریشن سیندور” کا نام دینا، اس سے وہ مانگیں جو پہلگام میں اُجڑیں ان میں خون کا سیندور بھردیا گیا۔ ان سے بھی اگر پوچھا جاتا تو ان کی مانگوں کو یہ سیندور منظور تو نہ ہوتا، جس میں کتنی مانگیں اجڑیں کتنی گودیںویراں ہوئیں۔
اسرائیل فلسطین ،ماضی تا حال ، غزہ میں بچے مر رہے ہیں ،نسل کشی ۔۔۔ماضی میں اسرائیلی اسکول وین میں بچے مر گئے تھے تو مشرقِ وسطیٰ کے کسی سیاسی زعماء کا بیان تھا کہ برائی کو پہلے ہی دن جڑ سے ختم کردینا چاہیے ، نفرت کی اتنی گہری جڑیں ، کاٹتے کاٹتے نسلیں کٹ رہی ہیں۔
یہ جو لوگ انسانیت کا راگ الاپتے ہیں اس سے سیاست دانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، اس تلخ حقیقت کا ادراک لکھنے سے بد دل کردیتاہے ۔ کچھ دنوںقبل انتہائی قابل ِ احترام سینئر صحافی زبیدہ مصطفی صاحبہ سے جب یہی رونا رویا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ’ ہم نے بھی ساری زندگی تعلیم کے مسائل پر لکھا لیکن بدلا تو کچھ نہیں ‘۔ میرے لیے قابل ِ تقلید امر یہ ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ وہ سبکدوش ہونے کے بعد کہ باوجود نظروں سے کم دکھائی دیتاہے ،مدد گار رکھے ہوئے ہیں اور مستقل لکھ رہی ہیں۔
موضوع کی طرف ، بھارتی طیارے کے حادثے نے ہم سب کو اداس کیا، سب خاندان اپنی اپنی دنیا میں مگن، اپنی اپنی راہوں کے مسافر، اپنے اپنے خوابوں کے پیچھے ۔۔۔ ان کے لواحقین سے دلی اظہارِ تعزیت۔
سماجی خبریں اپنے اثرات میں ہمہ گیر اور پیش آنے والے واقعات تحقیق طلب ہوتے ہیں ،تحقیق اس سمت کہ معاشرے میں اس نوعیت کے واقعات کی جڑیں کہا ں ہیں؟
خود کشی کی خبریں اخبارات کے اندر کے صفحے پر یک کالمی اور بہ مشکل ایک ڈیڑھ پارے کی مار ہوتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جس سے براہِ راست جاننے کا موقع ملا ۔ ایک ماہ پہلے تک والدین کی سرپرستی میں جس لڑکی کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں ،وہ شادی کے کچھ دنوں بعد خود کشی کر لیتی ہے ۔بعد میں پتا چلاکہ یہ اس کی دوسری شادی تھی ، مزید یہ کہ پہلے شوہر سے اس کے دو بچے بھی تھے ، کیا ہوا ،کیا نہیں ہوا، کچھ پتانہیں، کیا یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا؟
ایک اہم موضوع ”غیرت کے نام پر قتل” ہے، جس کو سمجھنے کے لیے طاہرہ ایس خان کی کتاب ”عزت کے نام پر” زیرِ مطالعہ ہے۔خبر آتی ہے کہ خدا کی بستی میں غیرت کے نام پر میاں بیوی اور دو بچوں کا قتل۔اس جوڑے نے ٢٠١٦ء میں شادی کی تھی ، ایک بیٹا نو سال کا دوسرا چار سال کا ،چاروں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور دو سال کی بیٹی کو اغوا کرکے لے گئے ۔ضلع بٹگرام صوبہ خیبر پختون خواہ شادی کے بارہ سال بعد بہن کو اس کے تین بھائیوں نے پسند کی شادی کرنے پرقتل کردیا۔ یہ غیرت کی کیسی آگ تھی جو آٹھ سال بارہ سال میں بھی ٹھنڈی نہیں پڑی۔شادی کی ، سب قانونی ،جائز ، حلال ،شرعی ۔۔۔لیکن غیرت ان سب پر حاوی ،اتنی سنگ دلی کہ بچوں کی گردن پر چھری پھیر دی، یہ مردانگی ہے ؟خاندان ، برادری ، جرگے اسے حیوانیت کب قرار دیں گے؟
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
ثناء یوسف کے قتل نے ایک نئی اصطلاح ”انسیل کلچر’ سے متعارف کرایا ۔ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے نہ وفورِ جذبات کے تحت ، یہ ”نہیں” کی سزا ہے ۔
جس طرح دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں اسی طرح جرم کو جنسیت کے خانوں میں نہیں بانٹا جائے گا۔ حضورۖ کے دور میں اگر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو وہ مرد کو بھی ملے گی اور عورت کو بھی ،فاطمہ نامی اس عورت کا تعلق کسی ایسے کھاتے پیتے قبیلے سے تھا جس پر اس کی معافی کی سفارش حضور ۖ کے سامنے پیش کی گئی ، لیکن نہ سماجی رتبہ نہ عورت ہونا اس کی سزا میں تخفیف کراسکا اور حضور ۖ نے فرمایا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو ان کو بھی یہی سزا ملتی ، اس سے آگے کیا؟ ایک خبر کوئٹہ کی جس میں بیوی نے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کردیا اور دوسری فیصل آ باد کی جس میں بیوی نے سوتن لانے پر شوہر کو مار ڈالا ۔ اسلحے کے اتنا عام ہونے کا سوال ہم کس سے کریں؟
دہشت گردی اور جنگوں پر بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے ، تہذیب کی داستان بھی کتنی جلدوں میں ول ڈیورانٹ اور ان کی ساتھی ایریل ڈیورانٹ نے رقم کی۔ اسلام کو آئے چودہ سوصدیاں بیت گئیں۔
زندگی کا قافلہ جاری و ساری ہے ، وہ جو جھکے چل رہے ہیں ، ان کی کمریں بڑھاپے سے نہیں جھکیں، غموں سے بوجھل جسم ہیں ، وہ جن کی پیٹھوں پر کُب نظر آتے ہیں ، یہ ان کے دکھ ہیں ، رنگ و نسل ،مذہب و قومیت سے بالا تر یہ قافلہ ۔۔۔پھر کسی بم کا ،جنگ کا ،تقسیم کا ایندھن بننے کے لیے استعمال ہوگا۔
خبر کے اسرار، واقعات کے اثرات
قلم کا قرض ، انسانیت کا راگ
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے نام پر

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی