جہان دیگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریں اختر
لفظ ‘خبر ‘ پر جتنا غور کرو ،اس کے عقدے ہیں کہ کھلتے چلے جاتے ہیں ،اس کے اسرار ہیں کہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اس کی برق رفتار نے اس کی عمر گھٹادی ، توکیا واقعی ایسا ہوا؟
وہ واقعہ جو خبر بنتاہے ،محدوددائرہ (خاندانی ،مقامی ،علاقائی) اور وسیع(ملکی و بین الاقوامی) اثرات پر محیط ہوتاہے۔ جس کو محدود دائرہ قرار دے رہی ہوں وہ مکانیت کے اعتبار سے ہے، اثر کے اعتبارسے تو وہ مرگ تک پہنچتے ہیں۔تاریخ ایسے واقعات سے بھی اٹی پڑی ہے جو ہر دائرے میں گھومتے ہیں ، مثال آرمی پبلک اسکول پشاور کا واقعہ ، محدود سطح پر ایک ایک خان دان جس طرح متاثر ہوا، اجتماعی سطح پر تمام خان دان اور اسکول سے وابستہ رہنے والے ، قومی سطح پر تاریخ کا بد ترین واقعہ ، بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کا بڑا واقعہ ۔۔۔لیکن قیامت کہاں ٹھہری ، شہداء کے لواحقین پر،تاحیات ،تادم مرگ، ان کے دکھ کاکچھ اندازہ وہی کرسکتے ہیں جنہوں نے اسی طرح اپنے کسی پیارے کو کھویا ہوگا۔ تمام حساس اذہان اس کے متاثرین میں شامل ہیں۔
حالیہ خضدار میں آرمی پبلک اسکول پر خبروں کے مطابق خود کش حملہ یا ایک کارمیں نصب ٹائم بم،دہشت گردانہ کاروائی تو دونوں صورتوں میں ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ایک باپ نے اپنے سارے بچے کھودیے ، دیگر ذرائع کے مطابق عیشا سلیم اور سحر سلیم دو بہنیں شہید ہوئیں ، ان کا بھائی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تھا اور ایک بھائی نے اس دن چھٹی کی تھی ۔ یہ اس خاندان کے لیے قیامت سے کیا کم ہے ۔
پہلگام واقعہ ، چھبیس خان دان جو براہ راست متاثر ہوئے اور یہ غم اب ان کی زندگیوںکا ساتھی ہے ، پھر جو ہوا؟بی بی سی کی بہترین رپورٹ جس میں سرحد کے دونوں اطراف گولہ باری کا نشانہ بننے والے گھرانوں کے متعلق بتایاگیا، خبر کی سرخی میں تھا کہ ”اب ہمارے بچے تو واپس نہیں آسکتے۔”
وہ جو طبی ویزے لے کر انڈیا گئے تھے انہیں بھی واپس آنا پڑا، اثرات کا دائرہ ہے کہ پھیلتا ہی چلا جاتاہے۔
لفظوں کی بھی دوطرفہ گولی باری۔۔۔عیاںبھی اور نہاںبھی۔۔۔”آپریشن سیندور” کا نام دینا، اس سے وہ مانگیں جو پہلگام میں اُجڑیں ان میں خون کا سیندور بھردیا گیا۔ ان سے بھی اگر پوچھا جاتا تو ان کی مانگوں کو یہ سیندور منظور تو نہ ہوتا، جس میں کتنی مانگیں اجڑیں کتنی گودیںویراں ہوئیں۔
اسرائیل فلسطین ،ماضی تا حال ، غزہ میں بچے مر رہے ہیں ،نسل کشی ۔۔۔ماضی میں اسرائیلی اسکول وین میں بچے مر گئے تھے تو مشرقِ وسطیٰ کے کسی سیاسی زعماء کا بیان تھا کہ برائی کو پہلے ہی دن جڑ سے ختم کردینا چاہیے ، نفرت کی اتنی گہری جڑیں ، کاٹتے کاٹتے نسلیں کٹ رہی ہیں۔
یہ جو لوگ انسانیت کا راگ الاپتے ہیں اس سے سیاست دانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، اس تلخ حقیقت کا ادراک لکھنے سے بد دل کردیتاہے ۔ کچھ دنوںقبل انتہائی قابل ِ احترام سینئر صحافی زبیدہ مصطفی صاحبہ سے جب یہی رونا رویا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ’ ہم نے بھی ساری زندگی تعلیم کے مسائل پر لکھا لیکن بدلا تو کچھ نہیں ‘۔ میرے لیے قابل ِ تقلید امر یہ ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ وہ سبکدوش ہونے کے بعد کہ باوجود نظروں سے کم دکھائی دیتاہے ،مدد گار رکھے ہوئے ہیں اور مستقل لکھ رہی ہیں۔
موضوع کی طرف ، بھارتی طیارے کے حادثے نے ہم سب کو اداس کیا، سب خاندان اپنی اپنی دنیا میں مگن، اپنی اپنی راہوں کے مسافر، اپنے اپنے خوابوں کے پیچھے ۔۔۔ ان کے لواحقین سے دلی اظہارِ تعزیت۔
سماجی خبریں اپنے اثرات میں ہمہ گیر اور پیش آنے والے واقعات تحقیق طلب ہوتے ہیں ،تحقیق اس سمت کہ معاشرے میں اس نوعیت کے واقعات کی جڑیں کہا ں ہیں؟
خود کشی کی خبریں اخبارات کے اندر کے صفحے پر یک کالمی اور بہ مشکل ایک ڈیڑھ پارے کی مار ہوتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جس سے براہِ راست جاننے کا موقع ملا ۔ ایک ماہ پہلے تک والدین کی سرپرستی میں جس لڑکی کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں ،وہ شادی کے کچھ دنوں بعد خود کشی کر لیتی ہے ۔بعد میں پتا چلاکہ یہ اس کی دوسری شادی تھی ، مزید یہ کہ پہلے شوہر سے اس کے دو بچے بھی تھے ، کیا ہوا ،کیا نہیں ہوا، کچھ پتانہیں، کیا یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا؟
ایک اہم موضوع ”غیرت کے نام پر قتل” ہے، جس کو سمجھنے کے لیے طاہرہ ایس خان کی کتاب ”عزت کے نام پر” زیرِ مطالعہ ہے۔خبر آتی ہے کہ خدا کی بستی میں غیرت کے نام پر میاں بیوی اور دو بچوں کا قتل۔اس جوڑے نے ٢٠١٦ء میں شادی کی تھی ، ایک بیٹا نو سال کا دوسرا چار سال کا ،چاروں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور دو سال کی بیٹی کو اغوا کرکے لے گئے ۔ضلع بٹگرام صوبہ خیبر پختون خواہ شادی کے بارہ سال بعد بہن کو اس کے تین بھائیوں نے پسند کی شادی کرنے پرقتل کردیا۔ یہ غیرت کی کیسی آگ تھی جو آٹھ سال بارہ سال میں بھی ٹھنڈی نہیں پڑی۔شادی کی ، سب قانونی ،جائز ، حلال ،شرعی ۔۔۔لیکن غیرت ان سب پر حاوی ،اتنی سنگ دلی کہ بچوں کی گردن پر چھری پھیر دی، یہ مردانگی ہے ؟خاندان ، برادری ، جرگے اسے حیوانیت کب قرار دیں گے؟
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
ثناء یوسف کے قتل نے ایک نئی اصطلاح ”انسیل کلچر’ سے متعارف کرایا ۔ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے نہ وفورِ جذبات کے تحت ، یہ ”نہیں” کی سزا ہے ۔
جس طرح دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں اسی طرح جرم کو جنسیت کے خانوں میں نہیں بانٹا جائے گا۔ حضورۖ کے دور میں اگر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو وہ مرد کو بھی ملے گی اور عورت کو بھی ،فاطمہ نامی اس عورت کا تعلق کسی ایسے کھاتے پیتے قبیلے سے تھا جس پر اس کی معافی کی سفارش حضور ۖ کے سامنے پیش کی گئی ، لیکن نہ سماجی رتبہ نہ عورت ہونا اس کی سزا میں تخفیف کراسکا اور حضور ۖ نے فرمایا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو ان کو بھی یہی سزا ملتی ، اس سے آگے کیا؟ ایک خبر کوئٹہ کی جس میں بیوی نے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کردیا اور دوسری فیصل آ باد کی جس میں بیوی نے سوتن لانے پر شوہر کو مار ڈالا ۔ اسلحے کے اتنا عام ہونے کا سوال ہم کس سے کریں؟
دہشت گردی اور جنگوں پر بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے ، تہذیب کی داستان بھی کتنی جلدوں میں ول ڈیورانٹ اور ان کی ساتھی ایریل ڈیورانٹ نے رقم کی۔ اسلام کو آئے چودہ سوصدیاں بیت گئیں۔
زندگی کا قافلہ جاری و ساری ہے ، وہ جو جھکے چل رہے ہیں ، ان کی کمریں بڑھاپے سے نہیں جھکیں، غموں سے بوجھل جسم ہیں ، وہ جن کی پیٹھوں پر کُب نظر آتے ہیں ، یہ ان کے دکھ ہیں ، رنگ و نسل ،مذہب و قومیت سے بالا تر یہ قافلہ ۔۔۔پھر کسی بم کا ،جنگ کا ،تقسیم کا ایندھن بننے کے لیے استعمال ہوگا۔
خبر کے اسرار، واقعات کے اثرات
قلم کا قرض ، انسانیت کا راگ
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے نام پر
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ