پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے، آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تمام حقوق حاصل ہیں، قائد اعظم نے کہا تھا پاک سرزمین میں ہر شہری کے حقوق برابر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں اقلیتوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تمام حقوق حاصل ہیں، قائد اعظم نے کہا تھا پاک سرزمین میں ہر شہری کے حقوق برابر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کیلئے ہم پرعزم ہیں، آئین کے تحت ہر شہری کو اظہار رائے کی بھی مکمل آزادی ہے۔ صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی انتہاپسندی اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف پرعزم ہے، ملک بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں اقلیتوں کہ پاکستان نے کہا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک