وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں انہوں نے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق شواہد پیش کیے۔ ان انکشافات کے بعد بھارتی وزیر دفاع نے دوبارہ تقریر کی اجازت مانگی، مگر اسے اجازت نہیں دی گئی، جس پر سارا تنازع کھڑا ہوا۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ اجلاس میں انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کی تقریر کے بعد خطاب کیا، جس میں پاکستان میں بھارتی مداخلت، کلبھوشن یادیو اور جعفر ایکسپریس پر حملے جیسے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے در اندازی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا روسی ٹی وی کو انٹرویو

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چینی وزیر سے دوبارہ بولنے کی اجازت مانگی، تاہم ایس سی او اجلاس کی روایات کے مطابق انہیں اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ ایسی نظیر موجود نہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر اور بلوچستان کا ذکر موجود تھا، اور دیگر رکن ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا اعلامیہ صرف اس صورت میں جاری ہوتا ہے جب تمام رکن ممالک متفق ہوں۔ اس اجلاس میں تنظیم کے 9 رکن ممالک اعلامیے پر متفق تھے، تاہم بھارت نے اس پر دستخط سے انکار کر دیا۔

ایس سی او اجلاس سے خطاب

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے وزرائے دفاع اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے تنظیم کے اصولوں سے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اجتماعی سلامتی، انسداد دہشت گردی میں مشترکہ کاوشوں اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

اپنے خطاب میں خواجہ آصف نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور مستقل جنگ بندی کے فوری نفاذ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کو بھی غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیا۔

مزید پڑھیں: شملہ معاہدہ ختم ہونے کی بات کیوں کی؟ خواجہ آصف نے بتادیا

وزیر دفاع نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی استحکام کے لیے کلیدی پلیٹ فارم ہے، جو مکالمے، باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کو خطے کی خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے انہوں نے اسے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستوں کو بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعے اور بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی منصوبہ بندی و مالی معاونت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ ریاستوں کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان امن و استحکام ایس سی او جعفر ایکسپریس جموں و کشمیر خواجہ آصف شنگھائی تعاون تنظیم وزیر دفاع.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان امن و استحکام ایس سی او جعفر ایکسپریس خواجہ ا صف شنگھائی تعاون تنظیم وزیر دفاع شنگھائی تعاون تنظیم وزیر دفاع خواجہ جعفر ایکسپریس خواجہ ا صف اجلاس میں ایس سی او تنظیم کے انہوں نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف