امید ہے ٹرمپ غزہ میں بھی جنگ بندی کرائیں گے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں بھی جنگ بندی کرائیں گے، پاکستان امن کیلئے اٹھائے ہر قدم کا خیر مقدم کرتا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر نے اہم ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکا تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوران ملاقات انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے حوالے سے اشتراک کار پر بھی گفتگو ہوئی، علاقائی صورتحال اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اسرائیل جنگ بندی کرانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور مخلصانہ کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کے بعد ایران اسرائیل سیز فائر کے حوالے سے امریکی صدر کا متاثر کن کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، امید ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں بھی جنگ بندی کرائیں گے، قیام امن کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زبردست اقدامات کو سراہتے ہیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے کشمیر سمیت دیگر تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے، پاکستان امن کیلئے اٹھائے ہر قدم کا خیر مقدم کرتا ہے۔
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا اہم دوست ملک ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ محسن نقوی امن کیلئے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔