نوجوان افسران قوم کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسکرین گریب
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ نوجوان افسران قوم کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں، نوجوان افسران دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے خلوص کے اعلیٰ ترین معیارات کو اپنائیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سول سروسز اکیڈمی کے 52ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیرِ تربیت افسران سے آرمی آڈیٹوریم میں ملاقات کی۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی، داخلی و خارجی چیلنجز پر گفتگو کی۔
فیلڈ مارشل نے علاقائی امن و استحکام کے تحفظ میں افواج کے کردار پر گفتگو کی اور ریاستی نظم و نسق کے ڈھانچے میں باصلاحیت سول بیورو کریسی کے ناگزیر کردار کو اجاگر کیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ جو یہ کہتے تھے کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، وہ آج کہاں ہیں؟
آئی ایس پی آر کے مطابق سول سروسز افسران نے فوج کے ساتھ کشمیر، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خدمات انجام دیں، افسران کو فوج کی تینوں سروسز سے متعلق اہم تجربات حاصل ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کامن ٹریننگ پروگرام کے شرکاء نے سینئر عسکری قیادت سے براہ راست ملاقات کو سراہا، ملاقات سوال و جواب کے بامقصد سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔