جی بی اسمبلی، آغا خان چہارم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پرنس کریم آغا خان نہ صرف اسماعیلی جماعت کے انچاسویں روحانی پیشوا تھے بلکہ وہ ایک عظیم انسان دوست اور کل تک دنیا کے بین المذاہت ہم آہنگی کے علمبردار تھے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک قرارداد کی متفقہ منظوری دی ہے جس میں پرنس شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم کی عالم اسلام خصوصاً پاکستان میں ان کی بے مثال خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پرنس کریم آغا خان نہ صرف اسماعیلی جماعت کے انچاسویں روحانی پیشوا تھے بلکہ وہ ایک عظیم انسان دوست اور کل تک دنیا کے بین المذاہت ہم آہنگی کے علمبردار تھے۔ ان کا قائم کر دہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک تیس سے زائد ممالک بشمول پاکستان اور خصوصا گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت، زراعت، ماحول، خواتین کی فلاح اور ثقافت کے شعبوں میں مثالی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ یہ ایوان پرنس کریم آغا خان کے پیش کردہ نظریات جس میں انسانیت، رواداری اور علم پر مبنی ترقی کا تصور شامل ہے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ قرارداد وزیر قانون غلام محمد نے ایوان میں پیش کی۔ تمام ممبران نے قرارداد کی حمایت کی جس پر سپیکر نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔