اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کیسپرسکی کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں نیٹ فلکس، ڈزنی، ایمیزون پرائم ویڈیو اور دیگر اسٹریمنگ سروسز سے تعلق رکھنے والے 70 لاکھ سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس کی تفصیلات چوری ہوئیں۔ صارفین میں شعور اجاگر کرنے اور ڈیجیٹل تحفظ کو فروغ دینے کے لیے، کیسپرسکی نے ”کیس 404 کے نام سے ایک انٹرایکٹو سائبر-ڈیٹیکٹو گیم لانچ کی ہے، جو جنریشن زی (Gen Z) کو ڈیجیٹل خطرات کی پہچان اور اپنی آن لائن زندگی کے تحفظ کی تربیت دیتی ہے۔

حالیہ ریسرچ کے مطابق، جنریشن زی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دیگر تمام نسلوں کے مقابلے میں زیادہ وقت اور پیسہ خرچ کرتی ہے جہاں کلپس، میمز، اور فین تھیوریز سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔تاہم، یہ مسلسل آن لائن اور جذباتی وابستگی پر مبنی طرز عمل پوشیدہ خطرات کا حامل ہے۔ جن ڈیوائسز پر نوجوان نسل اپنے پسندیدہ شوز دیکھتی ہے، وہی سائبر جرائم پیشہ افراد کے لیے حملیکا ذریعہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر میلویئر انفیکشنز کے ذریعے۔ یہ خطرات اکثر غیر رسمی ڈاؤن لوڈز، پائریٹڈ مواد، براؤزر ایکسٹینشنز یا متاثرہ ایپس میں چھپے ہوتے ہیں، اور خاموشی سے لاگ اِن تفصیلات، سیشن ڈیٹا اور دیگر ذاتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

کیسپرسکی کی ”ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلیجنس ٹیم” نے 2024 میں 7035236 متاثرہ اسٹریمنگ اکاؤنٹس کی شناخت کی۔ یہ ڈیٹا براہ راست اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے نہیں چوری کیا گیا بلکہ وسیع تر ڈیٹا چوری کے لیے سائبر حملوں کے دوران جمع کیا گیا۔

نیٹ فلکس سب سے زیادہ متاثر پلیٹ فارم رہا، جہاں 5632694 اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔ ڈزنی+ کے 680850 اکاؤنٹس ڈیٹا لیک میں پائے گئے۔ اگرچہ ایمیزون پرائم ویڈیو کے صرف 1607 اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔ جب کسی ڈیوائس میں میلویئر آجاتا ہے، تو سائبر حملہ آور صرف اسٹریمنگ ایپ تک محدود نہیں رہتے۔ وہ حساس معلومات، جیسے اکاؤنٹ کی تفصیلات، کوکیز، اور بینک کارڈ کی تفصیلات، چوری کر کے ڈارک ویب فورمز پر فروخت یا شیئر کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات حملہ آور یہ معلومات مفت میں فراہم کرتے ہیں تاکہ اپنی ساکھ بنا سکیں۔ ایک نیٹ فلکس پاسورڈ کی چوری مکمل ڈیجیٹل دخل اندازی، شناخت کی چوری یا مالی فراڈ میں بدل سکتی ہے، خاص طور پر اگر صارف ایک ہی پاسورڈ مختلف سروسز میں استعمال کرتا ہو۔

اسی ڈیجیٹل خطرے کا جواب دینے کے لیے، کیسپرسکی نے“کیس 404”تخلیق کیا ہے — ایک انٹرایکٹو سائبرسیکیورٹی گیم جو خاص طور پر Gen Z صارفین کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس ڈیجیٹل کھیل میں، صارفین اے آئی سے چلنے والے سائبر-ڈیٹیکٹو کا کردار ادا کرتے ہیں جو حقیقی خطرات سے متاثرہ کیسز کی تفتیش کرتے ہیں۔ تمام کیسز مکمل کرنے پر صارفین کو ”کاسپرسکی پریمیم” پر ڈسکاؤنٹ بھی ملتا ہے، تاکہ یہ سیکھا ہوا علم عملی تحفظ میں بدلا جا سکے۔

کیسپرسکی کی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ تجزیہ کار پولینا ٹریتیاک کہتی ہیں کہ ‘جنریشن زی کے لیے اسٹریمنگ صرف تفریح نہیں بلکہ ایک روزمرہ کی عادت، شناخت اور کمیونٹی کا ذریعہ ہے۔ مگر یہی جذباتی وابستگی ان کی کمزوری بھی بن جاتی ہے۔ غیر رسمی ڈاؤن لوڈز یا تھرڈ پارٹی ٹولز میں چھپا میلویئر خاموشی سے صارف کا لاگ اِن ڈیٹا اور ذاتی معلومات چوری کرتا ہے، جو بعد میں سائبر مجرموں کے فورمز پر فروخت ہوتا ہے۔ اس لیے محض پاسورڈ بدلنا کافی نہیں، بلکہ اپنے ڈیوائسز کو محفوظ رکھنا، مشتبہ ڈاؤن لوڈز سے پرہیز کرنا اور محتاط براؤزنگ ضروری ہے۔”

متاثرہ اکاؤنٹس کے پاسورڈز فوراً تبدیل کریں اور مشکوک سرگرمی چیک کریں۔* صرف مستند اور قانونی سبسکرپشنز استعمال کریں۔ ایپس صرف آفیشل مارکیٹ پلیسز یا آفیشل ویب سائٹس سے انسٹال کریں۔ قابلِ اعتماد سیکیورٹی سلوشن، جیسے کیسپرسکی پریمئیم، کا استعمال کریں اور محفوظ براؤزنگ اور میسجنگ کے لیے کیسپرسکی وی پی این استعمال کریں۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کرتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز، شیری رحمان کا اظہار تشویش

شیری رحمان : فائل فوٹو 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے 2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ اوسطاً 67 اغوا، 19 ریپ، 6 گھریلو تشدد اور 2 غیرت کے نام پر قتل رپورٹ ہو رہے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پنجاب میں 4,641 زیادتی کے کیسز میں صرف 0.4 فیصد کیسز میں سزا ملی، خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر 134 قتل کے واقعات میں صرف 2 سزائیں ہوئیں، سندھ میں غیرت کےنام پر قتل کے 134، زیادتی کے 243، گھریلو تشدد کے375 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔

بلوچستان میں زیادتی کے 21 اور اغوا کے 185 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، ناقص تفتیش، کمزور پراسیکیوشن اور ادارہ جاتی خلا مجرموں کو کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔

سیلابی ریلے میں 70 افراد 7 مختلف مقامات پر پھنس گئے، 52 کو بچا لیا گیا: شیری رحمٰن

شیری رحمان نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے دو دن قبل شمالی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیا تھا،

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں غیرت کے نام پر قتل کے 22 کیسز میں کوئی سزا نہ ہو سکی، ملک بھر میں 480 جی بی وی کورٹس کے باوجود 21,891 بیک لاگ 2023 کے آغاز میں موجود تھا۔

شیری رحمان نے کہا کہ سال 2023 میں 48,395 نئے کیسز دائر اور 30,631 نمٹائے گئے، مجموعی طور پر 0.5 فیصد سزا اور 64 فیصد بریت کی شرح نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، انسانی حقوق واچ کے مطابق 70 فیصد صنفی تشدد کے کیسز خوف اور بدنامی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ایک پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا جہاں قتل کرنے والے ملزم کو ہار پہنائے جا رہے تھے، اس حوالے سے 2004 سے قانون سازی ہو رہی ہے لیکن متاثرین کو انصاف نہیں مل رہا۔

متعلقہ مضامین

  • آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب 
  • کے الیکٹرک کی ناظم آباد میں کارروائی، زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا
  • پشاور میں رواں سال 517 افراد قتل ہوئے: پولیس رپورٹ
  • ملک بھر میں انسداد خسرہ، روبیلا اور پولیو ویکسینیشن مہم جاری
  •  شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے والی ویب سائٹ بند
  • پاکستانی سائبر ماہرین کی رپورٹ میں سرکاری افغان اکاؤنٹ کی تبدیلی بے نقاب ہوگئی
  • 2024 میں صنفی تشدد کے 32 ہزار 617 کیسز، شیری رحمان کا اظہار تشویش
  • سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں، ریحان حنیف
  • دپیکا پڈوکون کو مسلسل دوسرے سال کروڑوں کا نقصان، آمدن بھی کم ہوگئی
  • کراچی میں ای چالان کے 30 روز مکمل، 93 ہزار سے زائد چالان جاری