Jang News:
2026-06-02@23:25:30 GMT
لاہور: شاپنگ کے دوران وارداتیں کرنیوالی 2 خواتین ساتھی سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
لاہور میں پولیس نے شاپنگ کے دوران وارداتیں کرنے والی دو خواتین کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا ہے۔
ایس پی اخلاق اللّٰہ تارڑ کے مطابق دونوں خواتین شاپنگ کے بہانے مختلف مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں میں جاتی تھیں، ایک ملزمہ شاپنگ کے لیے آئی خواتین کو باتوں میں لگاتی جبکہ دوسری موبائل، نقدی اور پرس وغیرہ چوری کر لیتی تھی۔
ایس پی اخلاق اللّٰہ تارڑ کے مطابق ملزمان واردات کے لیے گاڑی استعمال کرتے تھے جسے ان کا ساتھی چلاتا تھا۔
پولیس نے گاڑی قبضے میں لے کر ملزمان سے چوری شدہ 40 موبائل فون، خواتین کے متعدد پرس اور پستول برآمد کرلی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں ندیم، سلمیٰ بی بی اور عیشاء رانی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شاپنگ کے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔