چین میں پاور بینکس کے ساتھ فضائی سفر پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
چینی حکام نے اندرونِ ملک پروازوں میں بغیر تصدیق شدہ پاور بینکس لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، یہ اقدام لیتھیئم بیٹری سے چلنے والے آلات میں آگ لگنے کے متعدد واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا آپ کا پاور بینک جعلی ہے؟ ان علامات سے پتہ چلائیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (CAAC) نے اعلان کیا کہ 28 جون 2025 سے ایسے پاور بینکس جو ’چائنا کمپلسری سرٹیفکیشن (3C)‘ سے محروم ہوں، یا جن پر واضح لیبلنگ نہ ہو، یا جن کا تعلق واپس منگوائے گئے ماڈلز سے ہو، انہیں طیارے میں ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام فضائی سفر کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ایسے واقعات میں اضافے کے بعد جن میں بیٹریاں حد سے زیادہ گرم ہو کر خطرناک ہو گئی تھیں۔
یہ فیصلہ حالیہ 2 بڑے پاور بینک ریکال (واپسی) کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے عام استعمال ہونے والے پورٹیبل چارجرز کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے۔
رواں ماہ کے آغاز میں شینزن کی کمپنی Romoss کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے 20,000mAh کے تقریباً 4,92,000 پاور بینکس واپس منگوائے، کیونکہ چین کی متعدد یونیورسٹیوں نے ان میں آتشزدگی کے خطرے کی شکایت کی تھی۔ یہ ماڈلز جون 2023 سے جولائی 2024 کے درمیان تیار کیے گئے تھے۔
اسی طرح، عالمی شہرت یافتہ الیکٹرانکس برانڈ Anker Innovations نے بھی 20 جون کو ممکنہ آگ کے خطرے کے باعث اپنے تقریباً 7,10,000 پاور بینکس دنیا بھر سے واپس منگوائے۔
CAAC کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک طیاروں کے اندر لیتھیئم بیٹریوں والے آلات کے دھواں چھوڑنے یا آگ پکڑنے کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جنہوں نے فوری ضوابطی کارروائی کو لازم بنا دیا۔
ادارے نے خبردار کیا کہ ناقص یا بغیر ضابطے کے پاور بینکس خاص طور پر طیاروں میں جہاں آگ بجھانے کے وسائل محدود ہوتے ہیں، ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
اگرچہ لیتھیئم آئن بیٹریز کے لیے 3C سرٹیفکیشن لازمی قرار دیے جانے کی آخری تاریخ یکم اگست مقرر ہے، لیکن CAAC کی نئی ہدایات اس سے پہلے ہی نافذ ہو جائیں گی، جس کا مطلب ہے کہ ماضی میں خریدے گئے غیر تصدیق شدہ پاور بینکس بھی اب ساتھ لے کر سفر نہیں کیے جا سکیں گے۔
یہ پابندی علاقے میں لگائی جانے والی دیگر فضائی پابندیوں میں تازہ اضافہ ہے۔ ایئر ایشیا، ملائیشیا ایئرلائنز، EVA ایئر اور ہانگ کانگ سول ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی ادارے اسی نوعیت کی ہدایات پہلے ہی جاری کر چکے ہیں، جن میں پاور بینکس کے مکمل طور پر ساتھ لے جانے، دورانِ پرواز استعمال یا چارج کرنے، یا اوور ہیڈ بن میں رکھنے پر پابندی شامل ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق یہ اقدام بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ذاتی الیکٹرانک آلات کے پھیلاؤ کے پیش نظر حفاظتی ضوابط کو سخت کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
شنگھائی میں مقیم ایوی ایشن سیفٹی کنسلٹنٹ ژانگ وے کے مطابق فضا میں لیتھیئم بیٹری کی آگ بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اس لیے CAAC کے پیشگی اقدامات بین الاقوامی حفاظتی معیار کے مطابق ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاور بینک چین فضائی سفر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاور بینک چین پاور بینکس ایوی ایشن کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔