بلاول بھٹو زرداری—فائل فوٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کیا کہ سات گنا بڑے ملک کو شکست دی ہے، بھارت کا بیانیہ جھوٹ کی بنیاد پر تھا اور ہم سچ پر کھڑے تھے۔

اسلام آباد میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا کا کردار بھی تاریخی ہے، پاکستانی میڈیا کی ساکھ کو پوری دنیا نے تسلیم کیا، آپ نے بیانیے کی جنگ میں دنیا کو بتایا کہ سچ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان کے میڈیا کے کردار پر فخر ہے، ہم نے شفافیت کے ذریعے دشمن کے پروپیگنڈے کو شکست دی، ہم پر پہلگام کا الزام لگا تو ہم نے ماضی کو نہیں جھٹلایا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے بھارت سے ثبوت مانگ لیے، وزیرِ اعظم کا یہ بہترین فیصلہ تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا، وزیرِ اعظم نے ثابت کیا کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے اس فیصلے کی وجہ سے ہماری ساکھ بنی، بھارت سفارتی لائنز پر بھی دنیا سے جھوٹ بول رہا تھا، ابھی ہم نے جوابی حملہ کیا ہی نہیں کہ بھارت نے پاکستانی حملے کے جھوٹے الزامات لگائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی وفد نے دنیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا، بھارت کی جارحیت کے خلاف پاکستان کو شاندار کامیابی ملی، بیانیے کے محاذ پر بھی بھارت کے خلاف پاکستان کو فتح حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جس سے جتنا ہو سکا پاکستان کا بیانیہ اجاگر کیا، دنیا نے دیکھا کہ بھارتی میڈیا جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا، اس جنگ کے دوران پاکستان نے اپنی ساکھ قائم کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کا بیانیہ بھی جھوٹا ثابت ہوا، جنگ کے 5 دنوں میں ثابت ہوا کہ بھارت پاکستان سے بہت سے شعبوں میں پیچھے ہے، بھارت تو کئی ہفتے بعد بھی یہ کہتا رہا کہ ہاں شاید ہمارا کوئی جہاز گرا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے ان کی زبان ہی ان کی سیاست ہے، پاکستان میں جرنلزم ہے، بھارت میں تو صرف پروپیگنڈہ ہے، ہم نے دنیا کو بھارت کو ہرا کے دکھا دیا، اب ہمیں معاشی میدان میں ترقی کرنی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی وفد نے دنیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا، بھارت کی جارحیت کے خلاف پاکستان کو شاندار کامیابی ملی، بیانیے کے محاذ پر بھی بھارت کے خلاف پاکستان کو فتح حاصل ہوئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری کمیٹی کو امن کا کیس پوری دنیا میں لڑنے کے لیے دیا گیا، ہمارا بیانیہ صرف اور صرف سچ تھا، امن کی وکالت کرنا بھارت کے عوام کا کیس لڑنا بھی ہے، امن بھارت کے عوام کے فائدے میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو پانی پر لڑائے اور یہ ہمیں قبول نہیں، پاکستان اور بھارت کی نئی نسل جنگ کے پیغام پر نہیں جائیں گے، امن کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خطے کے نوجوان امن و رواداری چاہتے ہیں، سیز فائر ہوا تو تسلیم کیا گیا تھا کہ تمام متنازع امور پر بات چیت کریں گے، بھارت پہلے سیز فائر کہتا تھا اب کہتا ہے یہ ایک توقف ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب مودی کہتا ہے کہ میری گولی کھاؤ تو ان کا مائنڈ سیٹ تو سب کے سامنے ہے، ہمیں بھارتی عزائم نظر آ رہے ہیں لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گی، بھارت کو اندازہ نہیں تھا کہ ہم ان کے جہاز اس طرح گرا دیں گے، بھارت کو ایسی کوئی توقع نہیں تھی، وہ سیز فائر کے لیے مجبور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مودی ٹرمپ کو کہیں نہ کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے میں نے تو سیز فائر کا نہیں کہا، ہم نے اس مشن پر کشمیر پر بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، سفارتی کوشسوں کے بعد اب دنیا کشمیر کو دوسری طرح دیکھ رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکی صدر اور بھارت کے جیو پولیٹیکل دوست بھی کشمیر کو مسئلہ تسلیم کر رہے ہیں، بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوایا جائے، پاکستان نے ہر مورچے پر بھارتی ایجنڈے کو ناکام کیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے یہ دیکھا کہ فیٹف پر بھی کام مکمل کیا گیا، اس وقت جب بھارت ہمیں دہشت گرد قرار دلوانا چاہتا ہے، امریکا اقوامِ متحدہ میں کہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فطری اتحادی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت پانی روکنے کی دہشت گردانہ دھمکی دیتا ہے، ہمارا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہم اپنا پانی لیں گے، ہم اپنا پانی لینے کے لیے لڑیں گے، معاہدہ تسلیم نہ کیا گیا تو آخری کنارے پر رہنے کے ناتے تمام 6 دریاؤں پر ہمارا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی پہلے گجرات پھر کشمیر کا قصائی بنا، اب وہ انڈس ویلی کا قصائی بننا چاہتا ہے، اگر بھارت سپر پاور بننا چاہتا ہے تو پھر ایسے چھوٹے کام نہیں کیے جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا آرمی چیف کا دورہ تاریخی اور بے مثال ہے، آرمی چیف کے دورے میں سب سے بڑا کردار جنگ جیتنے کا تھا، جنگ کے بعد بھارت سے دنیا کی بہت ساری امیدیں ٹوٹیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ کے خلاف پاکستان کو بلاول بھٹو زرداری انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کہ پاکستان بھارت کے چاہتا ہے سیز فائر کہ بھارت بھارت کی پر بھی جنگ کے کے لیے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار