13 کروڑ روپے کی ڈکیتی: 3 خواتین سمیت 5 ملزمان نے ایف آئی اے افسر بن کر لوٹا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
—علامتی تصویر
کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں شہری سے 13 کروڑ روپے سے زائد کی واردات کی گئی۔
پولیس کے مطابق شہری نے بتایا ہے کہ ملزمان ایف آئی اے کے افسر اور اہلکار بن کر آئے، واردات کا مقدمہ شو روم مالک کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔
مدعیٔ مقدمہ کے مطابق رات ساڑھے 3 بجے گھر کے سامنے گاڑی پارک کر رہا تھا کہ 2 مرد اور 3 برقعہ پوش خواتین سیاہ رنگ کی گاڑی میں آئے، دونوں ملزمان نے پستول نکالے اور گھر میں چلنے کو کہا۔
مدعی نے بتایا کہ گھر والوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تمام افراد اندر داخل ہو گئے، ملزمان نے الماری سے نقدی 13 کروڑ روپے بیگز میں بھرے، کمرے سے 20 گھڑیاں، ایک اسمارٹ واچ اور 25 پرفیوم اٹھائے۔
مدعی کے مطابق ملزمان نے گھر کے افراد کے 9 موبائل فونز اور 2 لیپ ٹاپ بھی چھین لیے۔
ڈکیتی میں ملوث 2 خواتین سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق لوٹ مار کا واقعہ 26 جون کو پیش آیا تھا، واقعے میں ملوث 2 مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔