پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ، پاکستانی 32 ممالک کا ویزہ فری سفر کرسکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک:پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ جاری کردی گئی، پاکستانی عوام کے لئے اچھی خبر کیونکہ جاری عالمی رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ میں بہتری ہوئی، پاکستانی پاسپورٹ پر 32 ممالک کا ویزہ فری سفر کرسکتے ہیں۔
دنیا بھر میں پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں ویزہ فری یا ویزہ آن ارائیول کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
بین الاقوامی رینکنگ پلیٹ فارم "ہینلے اینڈ پارٹنرز" کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ اس وقت 100ویں نمبر پر ہے، جو 2021 میں 113ویں نمبر پر تھا۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی تعلقات میں بہتری کی عکاس ہے۔
تازہ ترین پیش رفت کے تحت، متحدہ عرب امارات (UAE) اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
اس معاہدے کے بعد ایسے افراد کو سفر سے پہلے ویزہ کے لیے درکار رسمی کارروائیوں سے نجات ملے گی، جو سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستانی پاسپورٹ
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔