Daily Sub News:
2026-06-03@06:54:11 GMT

سوات کے بہتے پانیوں میں آنسوؤں کی رم جھم

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

سوات کے بہتے پانیوں میں آنسوؤں کی رم جھم

سوات کے بہتے پانیوں میں آنسوؤں کی رم جھم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال


کچھ واقعات دل کو اس قدر گہرائی سے چھو جاتے ہیں کہ ان کی بازگشت سیلابی پانیوں کے اترنے، چیخ و پکار کے تھمنے اور گرد بیٹھ جانے کے بعد بھی دل و دماغ پر نقش رہتی ہے۔ یہ صرف لمحے نہیں ہوتے، یہ ہمارے اجتماعی شعور پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں — اگر واقعی ہمارا شعور باقی رہ گیا ہے۔ ایسی ہی ایک المناک داستان حالیہ دنوں سوات میں پیش آئی، جہاں خوشی کے لمحے پل بھر میں سوگ میں بدل گئے اور سیر و تفریح کا خواب ایک ناقابل واپسی المیے میں ڈھل گیا۔


اس جمعہ کی دوپہر آسمان ایک ایسے سانحے کا گواہ بنا جسے کوئی دل برداشت نہیں کر سکتا۔ سوات کے نیلگوں اور پُرسکون آسمان، جو ہمیشہ سکون اور حسن کی علامت سمجھے جاتے تھے، اچانک بے بسی سے اس ہولناک منظر کو دیکھتے رہے جب ایک بے رحم پانی کا ریلا وادی میں اُمڈ آیا اور پلک جھپکتے میں قیمتی انسانی جانوں کو نگل گیا۔ بچوں کی ہنسی چیخ و پکار میں بدل گئی، دوستوں کی خوش گپیاں مدد کی دہائیاں بن گئیں، اور قدرت کا سکون ایک المناک تباہی کے منظر میں تبدیل ہو گیا۔


ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے 35 سیاحوں کا ایک گروپ فطرت کی گود میں سکون تلاش کرنے کے ارادے سے روانہ ہوا تھا۔ یہ خاندان تھے، دوست، بہنیں اور بھائی—زندگی کی تھکن سے کچھ لمحوں کا فرار چاہنے والے عام لوگ۔ مگر ان میں سے تقریباً 16 افراد واپس نہ آ سکے۔ شمالی گلیشیئرز سے جڑی سوات کی خوبصورت دریا ان کے لیے ایک بے نشان قبر بن گئی۔ ان قیمتی جانوں کے آخری لمحے وہاں موجود افراد کے کیمروں میں قید ہوئے—خوف اور بے بسی کی وہ ہولناک جھلکیاں سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچیں۔ مگر ان واضح مناظر کے باوجود جو چیز نظر نہ آئی، وہ وہ چہرے تھے جو سب سے پہلے وہاں موجود ہونے چاہیئے تھے—ریسکیو اہلکار، متعلقہ افسران، اور وہ نظام جو عموما تاخیر کا شکار رہتا ہے۔


عینی شاہدوں کے مطابق متاثرہ خاندان گھنٹوں تک مدد کے لیے پکارتے رہے۔ مایوسی سے بھری ہوئی آوازیں لرزتی رہیں، بھیگے ہاتھوں میں تھامے گئے فون کانپتے رہے، ہر سانس کے ساتھ دعائیں لبوں پر آتی رہیں—مگر کوئی نہ آیا۔ یہ تاخیر جان لیوا ثابت ہوئی۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہ تھی، بلکہ ذمہ داری سے غداری تھی، تکلیف کے منظر میں ایک سفاک خاموشی۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ دلوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے، مگر ہمیں یہ بھی کہنا چاہیے—کہ ان لوگوں کے دلوں پر کیا گزری، یہ بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے، جب وہ پانی میں بہتے ہوئے آخری بار کنارے کی طرف دیکھ رہے تھے، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی، کہیں سے، مدد کو آ جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسی بے بسی کو تاریخ نے قلم بند کیا ہو۔ یہ بھی پہلا موقع نہیں کہ ہمارا نظام بروقت حرکت میں آنے میں ناکام رہا ہو۔ جہاں فوری عمل ہونا چاہیے تھا، وہاں ہمدردی سے کام لیا گیا؛ جہاں جوابدہی ہونی چاہیے تھی، وہاں افسوس کے بیانات دے دیے گئے؛ اور جہاں اصلاحات کی ضرورت تھی، وہاں مالی امداد کو اس زخم پر مرہم سمجھ لیا گیا جو کبھی نہیں بھر سکتا۔ کیا یہ سانحہ بھی ان حادثات میں شامل ہو جائے گا جو وقت کے دھندلکوں میں گم ہو جاتے ہیں؟ ہو سکتا ہے چند افسر معطل کر دیے جائیں، مالی امداد کا اعلان کر دیا جائے، اور نہایت احتیاط سے لکھے گئے افسوس کے بیانات جاری ہو جائیں—لیکن کیا یہ سب کچھ دریا میں ڈوب جانے والی ان قیمتی جانوں کو واپس لا سکتا ہے؟


اصل سانحہ صرف ڈوب جانا نہیں، بلکہ وہ بے حسی ہے جو اس کے بعد دکھائی دیتی ہے۔ کیا اس سے پہلے ایسے واقعات پیش نہیں آئے؟ کیا ہم نے سیلابی ریلوں میں سیاحوں کو بہنے، خاندانوں کو دریاؤں میں ڈوبتے، اور سڑکوں کو پانی میں بہتے نہیں دیکھا؟ پھر ہم نے کیا سیکھا؟ ہم نے کیا درست کیا؟ یا ہم نے ہمیشہ کی طرح اسے تقدیر کا لکھا کہہ کر شانے اچکا دیے، جیسے انسانی جان اتنی سستی ہو کہ صرف یہ کہہ کر اس کا حساب ختم کر دیا جائے کہ ”یہ تو قسمت میں تھا”؟


ہمارے ردعمل میں ایک ظالمانہ تکرار ہے۔ ہم سوگ منائیں گے، جی ہاں۔ ہم مرحومین کی تصاویر دل شکستہ کیپشنز کے ساتھ شیئر کریں گے۔ ہم اجلاس بلائیں گے، رپورٹس تیار کریں گے، اور کانفرنسوں میں سنجیدگی سے سر ہلائیں گے۔ پھر ہم آگے بڑھ جائیں گے۔ اور وہ لواحقین؟ وہ عمر بھر ایک ایسے خلا کے ساتھ جئیں گے جسے کوئی وقت، کوئی لفظ، کوئی ہمدردی پُر نہیں کر سکتی۔ وہ صرف اپنے پیاروں کو دفن نہیں کریں گے، بلکہ اپنے وجود کا ایک حصہ بھی مٹی کے حوالے کر دیں گے۔ ایک ماں کے اس درد کا کوئی ازالہ نہیں جو ہنستے ہوئے بیٹے کی واپسی کی منتظر تھی اور جس کے ہاتھ میں اُس کا بے جان جسم آیا؛ اُس باپ کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں جو بچوں کو احتیاط کا مشورہ دے کر رخصت کرتا رہا، یہ جانے بغیر کہ وہ مسکراہٹیں اُن کی آخری ہوں گی۔ مگر اس سانحہ نے تو سارے خاندان کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔


دوسری قوموں میں اگر ایک بچہ بھی گم ہو جائے یا کوئی جانور مشکل میں ہو، تو پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، ہنگامی الرٹس جاری کیے جاتے ہیں، اور ہیلی کاپٹرز فضا میں بھیجے جاتے ہیں۔ یہاں درجنوں لوگ ڈوب جاتے ہیں، اور ریاستی مشینری تب جاگتی ہے جب سب کچھ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پہلا مددگار بن جاتا ہے، اور انتظامیہ بے حسی کی عینک لگا کر محض تماشائی بنی رہتی ہے۔
اگر ہم مستقبل میں ایسے دل دہلا دینے والے سانحات سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ردِعمل کے طور پر سوگ منانے کی رسم ترک کرنی ہوگی اور پیشگی منصوبہ بندی کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں بروقت وارننگ سسٹمز، دریا کے کناروں کی نگرانی، ایمرجنسی مشقیں، اور سیاحوں کے لیے تیار کردہ عوامی آگاہی مہمات شامل ہوں۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور فوری مواصلاتی نظام کے اس دور میں پانی کی سطح کی نگرانی اور ممکنہ طغیانی کی پیشگوئی کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن ایسے تمام آلات اور نظام تب تک بے سود ہیں جب تک اُن کے ساتھ عمل کا حقیقی ارادہ اور عزم نہ ہو۔
سوات کا دریا بہتا رہے گا، اس آنسوؤں سے بے نیاز جو اس نے بہنے دیے۔ سیاح ایک بار پھر اس کی خوبصورتی سے کھنچے چلے آئیں گے، بے خبر اس تاریخ سے جو اس کے پانیوں کے نیچے دفن ہے۔ اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا تو ایک دن پھر کسی معصوم گروہ کا وہی انجام ہوگا، اور ہم ایک بار پھر خاموش، تاخیر سے پہنچنے والے، اور بہانوں سے بھرے تماشائی بنے رہیں گے۔


آئیے خود کو شاعرانہ تقدیر پسندی کے دھوکے میں نہ رکھیں۔ آئیے اپنی ناکامیوں پر کھوکھلی دعاؤں اور دکھاوے کی ہمدردیوں کا پردہ نہ ڈالیں۔ سوات میں مرنے والے لوگ محض اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ زندہ انسان تھے—محبتوں، کہانیوں، خوابوں سے بھرپور زندگیاں—جنہیں صرف پانی نے نہیں، ہماری غفلت نے بھی چھین لیا۔
اور اگر ہم اس سانحے کے بعد بھی نہ بدلے، تو شاید اصل سیلاب ہمارے دریاؤں میں نہیں، بلکہ ہمارے دلوں میں ہے—جو ہماری ذمہ داری، ہمدردی اور انسانیت کو بہا لے جا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک اور سیاح کی لاش نکال لی گئی، مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئی حضرت عمر فاروقؓ: عادل خلیفہ اور قیادت کا لازوال نمونہ ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد… دنیا کے امتحان کا نیا دور طاقت سے امن یا امن کے بغیر طاقت؟ میزانیہ اور زائچہ مصنف فرمان علی چوہدری عجمی سوشل میڈیا کا عروج اور معاشرتی زوال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق