وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی ایئرایمبولینس ریسکیو کیلئے نہیں پہنچ سکی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
فوٹو بشکریہ انسٹاگرام اکاؤنٹ
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سانحہ سوات پہلا نہیں، اس طرح کے کئی سانحات ہو چکے ہیں، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ایئر ایمبولینس ریسکیو کے لیے نہیں پہنچ سکی۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سانحہ سوات تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ سوات کے عینی شاہدین کے مطابق کالز کی گئیں لیکن ریسکیو ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں، سانحے میں جاں بحق افراد کی زندگیاں آسانی سے بچائی جا سکتی تھیں۔
خطرناک مقامات پر سیلفی لینا، تصاویر اور ویڈیو بنانے کا شوق ہر سال سیاحتی موسم میں کئی قیمتی جانیں نگل لیتا ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ کے پی کل اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ایک بادشاہ کی نوکری کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز دریائے سوات میں بارش کے بعد پانی کا ریلہ 17 افراد کو بہا کر لے گیا تھا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 10ہو گئی ہے جبکہ 3 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
دریائے سوات میں پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔