سانحہ سوات: بروقت مدد ملتی تو قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سانحہ سوات میں سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے متعدد افراد جاں بحق ہونے پر شدید دکھ اور افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت مدد ملتی تو قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔
نجی ٹی وی دنیانیوز نےکے حوالے سے بتایا کہ مریم نواز شریف نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سوات دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، غمزدہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کے ساتھ کھڑی ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ دے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے سیاحتی مقامات پر انتظامیہ اور ریسکیو سروسز کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے، حالیہ بارشوں کے پیش نظر پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے مزید الرٹ رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریسکیو و ریلیف آپریشنز میں ذرا سی غفلت بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایئرایمبولینس کا اجرا ابھی تک سوالیہ نشان ہے، لائف بوٹس کیوں نہیں موجود تھیں،غوطہ خورکہاں تھے؟
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، پنجاب حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارافسوس کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا، خیبرپختونخوا میں 12،13 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، جاں بحق افراد ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہو کرمدد کا انتظار کرتے رہے، قدرتی آفا ت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ دریائے سوات جیسے سانحات کو روکنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ ریسکیو ٹیمیں کیوں دیر سے پہنچیں، خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر بروقت امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے، مقامی لوگوں اور پاک فوج نے ہمیشہ ایسے سانحات میں مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ریسکیو اور دیگر امدادی محکموں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، بلال خان نامی مقامی نوجوان نے اپنی کشتی کے ذریعے لاشوں کو نکالنے میں میں مدد کی، گزشتہ 12 سال سے خیبرپختونخوا کے عوام کو جھوٹ اور دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر اینڈ سنیارٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ