اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5ججز نے ٹرانسفر کیس کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جون2025ء)سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5ججز نے ٹرانسفر کیس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔میڈیارپور ٹس کے مطابق وکیل منیر اے ملک نے 5ججز کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔
(جاری ہے)
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو درست قرار دیا تھا، سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے سنیارٹی کا معاملہ صدرِ پاکستان کو بھجوا دیا تھا۔سپریم کورٹ کے ججز ٹرانسفر کیس کے فیصلے کو انٹرا کورٹ اپیل میں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انٹرا کورٹ اپیل کے التوا تک 19جون کا فیصلہ معطل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔