اپنے پیغام میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ کربلا نے سکھایا کہ ظلم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے، دشمنانِ اسلام امت کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب میں الجھانا چاہتے ہیں، مگر امام حسینؑ کا پیغام ہے کہ امت کی طاقت اُس کے اتحاد میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ محرم الحرام 1447ھ کا چاند ہمیں ایک بار پھر کربلا کے اُس لازوال پیغام کی یاد دلاتا ہے جو نواسۂ رسول، سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظلم و جبر، فسطائیت اور طاغوت کے مقابل میں حق، عدل اور انسانیت کے تحفظ کے لیے پیش کیا، کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے ظالم و مظلوم کے درمیان ایک روشن معیار ہے، ‏آج جب امتِ مسلمہ عالم بھر میں آزمائش، جارحیت اور فرقہ واریت کا شکار ہے، محرم الحرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق، صبر و استقامت، اور ظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عہد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏کربلا نے سکھایا کہ ظلم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے اور یہ بھی کہ ملت کی بقا، وحدت اور باہمی احترام میں مضمر ہے، دشمنانِ اسلام امت کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب میں الجھانا چاہتے ہیں، مگر امام حسینؑ کا پیغام ہے کہ امت کی طاقت اُس کے اتحاد میں ہے، آئیے اس محرم الحرام پر ہم عہد کریں کہ ‏کسی بھی مسلک، مکتب یا عقیدے کی توہین سے گریز کریں، ‏مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کا تقدس قائم رکھیں، ‏مظلومینِ عالم، خصوصاً فلسطین، لبنان، کشمیر، یمن اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں یک زبان ہوں، ‏اسلام دشمن قوتوں کے مقابل امت کے شیرازے کو بکھرنے نہ دیں۔ ‏خدا کرے کہ یہ محرم الحرام امتِ مسلمہ کے لیے بیداری، وحدت، نصرتِ حق اور ظالموں کے زوال کا پیغام لے کر آئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محرم الحرام کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر