حکومت پنجاب کا سرکاری ہسپتالوں میں ”صحت کارڈ“ کی سہولت بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)حکومت پنجاب نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کے لیے استعمال ہونے والے ”صحت کارڈ“ کی سہولت بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 30 جون 2025 کے بعد صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہو گی۔
مراسلے کے مطابق تمام ہسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 30 جون سے قبل صحت کارڈ کے تحت کیے گئے علاج کے تمام واجبات کلیئر کر لیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد صحت کارڈ کی سہولت ختم ہو جائے گی۔ مزید کہا گیا ہے کہ 30 جون کے بعد فری علاج کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نئی پالیسی متعارف کرائیں گی۔
صحت کارڈ کا پائلٹ منصوبہ 2014 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا، جبکہ دسمبر 2021 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے پنجاب بھر میں اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس پروگرام کے تحت لاکھوں غریب افراد کو مفت علاج کی سہولت حاصل رہی، جس سے وہ مہنگے ہسپتالوں کے بجائے سرکاری ہسپتالوں میں باعزت طریقے سے اپنا علاج کرا سکتے تھے۔
مزیدپڑھیں:سانحہ سوات؛ ڈپٹی کمشنر شہزاد محبوب معطل، سلیم جان نئے ڈی سی سوات تعینات
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سرکاری ہسپتالوں صحت کارڈ کی سہولت گیا ہے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔