ژوب، سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ گئی، ایک ہی فیملی کی 4 خواتین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لیویز ذرائع کے مطابق فیملی کے 6 افراد پکنک منانے کیلئے ژوب میں آئے، اچانک ان کی گاڑی سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئی، جس سے 4 خواتین ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں جب کہ 2 افراد کو بچا لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سوات اور حویلیاں کے بعد بلوچستان کے علاقے ژوب میں بھی سیلابی ریلے میں فیملی کے بہہ جانے کا واقعہ سامنے آ گیا۔ لیویز ذرائع کے مطابق فیملی کے 6 افراد پکنک منانے کیلئے ژوب میں آئے، اچانک ان کی گاڑی سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئی، جس سے 4 خواتین ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں جب کہ 2 افراد کو بچا لیا گیا۔
لیویز ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والی 3 خواتین سگی بہنیں تھیں، ان کا تعلق پنجاب کے ضلع ملتان سے تھا، بدقسمت خاندان کوئٹہ کے راستے ژوب پہنچا تھا۔ دوسری جانب مرنے والے خواتین کی لاشیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر آبائی علاقے میں بھجوا دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیلابی ریلے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔