Express News:
2026-07-24@10:52:45 GMT

کیا ٹرمپ تنازع کشمیر حل کرا پائیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

ابھی تک مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو سب سے طاقتور ملک سمجھا جاتا تھا مگر اب اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اسرائیل امریکی مدد کے بغیرکچھ بھی نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلم کھلا جارحیت کی اور کئی دنوں تک اس پر پوری طاقت سے حملہ آور ہوتا رہا مگر جب ایران نے اسے نشانہ بنانا شروع کیا تو اسے اپنی حقیقت کا پتا چلا کہ وہ ایران کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔

ایران نے اپنے طاقتور میزائلوں سے اسرائیل میں ایسی خوفناک تباہی مچائی کہ اس کے ہوش اڑ گئے اور اسرائیلی عوام نیتن یاہو کو کوسنے لگے۔ امریکا اس غلط فہمی میں تھا کہ اس نے اپنے بی 2 بمبار سے حملہ کر کے جوہری اثاثوں کو تباہ کر دیا ہے مگر ایران نے کمال ہوشیاری سے پہلے ہی اپنی افزودہ یورینیم دوسرے مقام پر منتقل کر دی تھی اس طرح ایران کے جوہری مواد کو تو نقصان نہیں پہنچا، ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی ہزیمت اور اپنے وقار کو تار تار دیکھ کر اب صدر ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ جنگ تو بند ہوگئی ہے مگر کیا اسرائیل کا دماغ بھی درست ہوا؟

حالیہ جنگ میں ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی قوم بڑے سے بڑے حملہ آور سے نہیں ڈرتی اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔ اسی دوران نیتن یاہو نے انھیں ایران کی جنگ میں اپنا شریک بنا لیا۔ اسرائیل شاید ایران کے خلاف اتنا آگے نہ بڑھتا۔ اگر ٹرمپ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے سے نیتن یاہو سے زیادہ پریشان نہ ہوتے حالانکہ انھیں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

وہ پرامن مذاکرات کے ذریعے بھی یہ معاملہ حل کر سکتے تھے۔ پھر ایران بار بار یہی کہتا رہا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ افسوس کہ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کو دھونس اور دھمکیوں کی نذر کر دیا۔ ایران پھر بھی مذاکرات کرنے سے نہیں کترایا اور اپنا وفد عمان بھیجا مگر اس کے دوران بھی اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور پھر ٹرمپ نے بھی بعد میں ایرانی جوہری اثاثوں پر حملہ کر دیا اور اعلان کر دیا کہ انھوں نے ایران کے جوہری مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔

مگر شاید ایسا نہیں ہوا تھا جب ہی تو دوسرے دن اسرائیل کو ان ہی مراکز پر بمباری کرنا پڑی۔ امریکا ایران کو کئی برسوں سے مسلسل تنگ کر رہا ہے اس نے ایران پر مختلف اقسام کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اب ایسے ماحول میں ایران کیسے اپنا گزارا کر رہا ہوگا اور اپنے عوام کی ضروریات پوری کر رہا ہوگا بہرحال ایران ان تمام پابندیوں کے باوجود بھی اپنے تیل کی بدولت ایک پروقار ملک کے طور پر قائم و دائم ہے۔

ایران پاکستان کا ایک پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان نے کئی مرتبہ ایران سے گیس اور بجلی خریدنے کی کوشش کی مگر امریکی حکومت کو یہ بات پسند نہ آئی۔ کئی سال قبل پاکستان نے ایران سے گیس خریدنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایران نے اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بچھا دی تھی پاکستان نے بھی یہ کام شروع کر دیا تھا مگر افسوس کہ امریکا نے یہ کام آگے نہ بڑھنے دیا اور جب سے اب تک یہ کام التوا میں پڑا ہوا ہے۔

حالانکہ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی ملک سے گیس یا تیل حاصل کرنے کی آزادی حاصل ہے مگر امریکی پابندیوں سے تمام ہی ممالک خوفزدہ ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کو گیس کی جگہ درآمد شدہ تیل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جس کے بھاری اخراجات کی وجہ سے ایک طرف عوام پر مہنگائی کا بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے تو دوسری جانب معیشت مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا سہارا لینا ناگزیر ہوگیا ہے۔

ایسے مشکل وقت میں گزشتہ دنوں پاکستان کو بھارت کی جارحیت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بھارت نے پہلگام میں بغیر کسی ثبوت کے وہاں دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر حملہ کر دیا۔ اس حملے سے مشرقی سرحدی علاقوں میں کئی افراد شہید ہوئے۔ پھر پاکستان نے ناچار اس بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے فضائی حملے کیے جن کی تاب نہ لا کر بھارت نے ٹرمپ کی مدد سے جنگ بندی کرا لی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کو رکوا کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

بھارت پہلے کشمیر کے معاملے میں کسی ملک کی ثالثی کا قائل نہیں تھا مگر ٹرمپ کی پیشکش پر مودی انکار نہ کر سکا۔ گوکہ ثالثی کے معاملے پر بھارت میں مودی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے تاہم اس سے اتنا ضرور ہوا کہ مسئلہ کشمیر جسے مودی یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے اسے سرد خانے میں ڈال دیا ہے اس کا خیال غلط ثابت ہوا اور اب مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہو گیا ہے کیونکہ اس کے حل کے بغیر برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان نے میں ایران کر دیا ہے ایران نے کے جوہری ایران کے نے ایران ایران سے حملہ کر کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم