چین، ایک ماہ میں 93 ہزار میگاواٹ کے سولر پینلز لگانے کا نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
لاہور:
امریکی تحقیقی تنظیم ایشیا سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق اہل چین نے صرف ایک ماہ ( حالیہ مئی ) میں 93 ہزار میگاواٹ بجلی بناتے سولر پینلز لگا کر نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا، ہر سیکنڈ میں 100 پینل لگے۔
یہ پولینڈ میں بنتی بجلی کے برابر ( پاکستان میں قومی سیٹ اپ 49 ہزار میگاواٹ بجلی بنا سکتا ) چینیوں نے 26 ہزار میگا واٹ بجلی بناتی5300 ونڈ ٹربائنیں بھی لگائیں۔
رپورٹ کے مطابق چین میں قابل تجدید توانائی کا انقلاب جنم لے چکا جو سستی بجلی بنا رہا ہے، سال رواں جنوری تا مئی وہاں 198 گیگاواٹ بجلی بناتے سولر پینل اور 46 ہزار میگاوٹ بجلی پیدا کرتی ونڈ ٹربائنیں نصب کی گئیں۔
یہ انڈونیشیا یا ترکی میں بنتی بجلی کے برابر ہے ، یاد رہے چین اب صرف سولر پینلوں سے سالانہ ’’ ایک ہزار گیگا واٹ ‘‘ سے زیادہ بجلی بنا رہا جو عالمی سطح پر شمسی توانائی سے بنی بجلی کا آدھا حصہ ہے۔
چین سولر پینل اور ونڈ ٹربائنیں بنانے میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی بنا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔