چھکا لگاتے ہی زندگی کا اختتام، نوجوان کرکٹر کی پچ پر ہلاکت کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پنجاب کے شہر فیروز پور سے سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں ایک نوجوان کرکٹر کو چھکا مارنے کے فوراً بعد گر کر جان دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ ڈی اے وی اسکول گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں ہرجیت سنگھ نامی بلے باز نے ایک گیند پر شاندار چھکا مارا۔ مگر چھکا لگانے کے فوراً بعد وہ پچ پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اچانک زمین پر گر پڑا۔
छक्का मारते ही बल्लेबाज को आया हार्ट अटैक, पिच पर ही गिर गया और मौत हो गई ।ये घटना पंजाब के फिरोजपुर की है । pic.
— Dr Anurag bhadouria (@anuragspparty) June 29, 2025
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی وہ گرتا ہے، دیگر کھلاڑی اس کی مدد کے لیے دوڑتے ہیں اور فوری طور پر مصنوعی تنفس فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہرجیت سنگھ کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں:
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، جون 2024 میں ممبئی کے کشمیرا علاقے میں بھی ایک ایسا ہی سانحہ پیش آیا تھا، جہاں رام گنیش تیواری نامی 42 سالہ شخص کرکٹ میچ کے دوران چھکا لگانے کے بعد اچانک زمین پر گر پڑا، اسپتال منتقل کیے جانے پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔
حالیہ مہینوں میں بھارت میں کھیل کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے کھیل کے میدانوں میں موجود حفاظتی انتظامات اور طبی سہولیات پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلے باز چھکا کرکٹ ہرجیت سنگھ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلے باز چھکا کرکٹ ہرجیت سنگھ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔