مہوش حیات کو کیسے’ لائف پارٹنر‘ کی تلاش؟ اداکارہ نےبتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)معروف اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک شادی ایک جُوا ہے، اور وہ اس اہم فیصلے میں کسی قسم کی جلد بازی نہیں کرنا چاہتیں۔
پاکستان ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ مہوش حیات کا شمار ملک کی اُن سلیبرٹیز میں ہوتا ہے جنہوں نے ان گنت سپرہٹ سیریلز کئے جبکہ فلموں میں بھی آؤٹ سٹینڈنگ پرفارمنس کی، مداحوں یہ جاننے کے لئے اضطراب کا شکار ہیں کہ وہ کب رشتہ ازدواج سے منسلک ہورہی ہیں۔
اس حوالے سے مہوش حیات نے خود ہی بتا دیا، ایک انٹرویو میں اداکارہ نے اپنی ازدواجی ترجیحات، فنی سفر، مستقبل کے منصوبوں اور عمر سے متعلق معاشرتی رویوں پر بے لاگ گفتگو کی۔
مہوش حیات نے کہاکہ وہ حقیقت پسند ہیں اور ایسے شریکِ حیات کی خواہاں ہیں جو ان کی زندگی میں سکون لائے اور جس پر وہ مکمل اعتماد کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ رومانوی مزاج ضرور رکھتی ہیں، مگر شادی جیسے اہم معاملے میں محتاط رویہ اختیار کریں گی۔ ان کے مطابق کچھ لوگوں کے لیے شادی اولین ترجیح ہو سکتی ہے، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ یہ فیصلہ سمجھ داری اور مکمل غور و فکر کے بعد کیا جائے۔
مہوش حیات نے عمر سے متعلق معاشرتی رویے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مرد اداکاروں کو تو بڑی عمر میں بھی کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ باوقار انداز میں پیش کیا جاتا ہے، مگر خواتین کے لیے وقت جیسے رُک جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مغرب میں عمر کو اس قدر اہمیت نہیں دی جاتی، وہاں فنکاراؤں کی مہارت اور کام کو سراہا جاتا ہے، جب کہ یہاں عمر کو لے کر غیر ضروری تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی عمر ایک قدرتی عمل ہے جس سے ہر انسان گزرتا ہے، اور اداکاراؤں سے متعلق غیر منصفانہ توقعات رکھنا درست رویہ نہیں۔
مزیدپڑھیں:واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب دستاویزات اسکین کرنا ہوا اور بھی آسان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مہوش حیات نے
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت