5 برس قبل 30 سال کی عمر میں موت کی پیشگوئی کرنے والا انفلوئنسر چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اب سے پانچ برس قبل اپنی موت کی پیشگوئی کرنے والا 30 سالہ انفلوئنسر انتقال کر گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سالہ امریکی انفلوئنسر ٹینر مارٹن، جنہوں نے اپنی کینسر کی جدوجہد کو سوشل میڈیا پر دستاویزی انداز میں پیش کیا، 25 جون کو انتقال کر گئے۔
اُن کی وفات کی اطلاع اُن ہی کی ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو کے ذریعے دی گئی، جو اُن کے انسٹاگرام اکاؤنٹ @tannerandshay پر شیئر کی گئی، جسے وہ اپنی اہلیہ شی مارٹن کے ساتھ چلاتے تھے۔
ویڈیو میں ٹینر کہتے ہیں، "ہیلو، یہ میں ہوں، ٹینر۔ اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں، تو میں اب اس دنیا میں نہیں رہا۔”
ٹینر کو 2020 میں 25 سال کی عمر میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ 2024 کی امریکن کینسر سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق 50 سال سے کم عمر مردوں میں آنتوں کا کینسر موت کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔
ٹینر کے سسر، اسٹیو رائٹ نے "گڈ مارننگ امریکہ” کو بتایا کہ وہ یوٹاہ میں اپنے گھر کے بیسمنٹ اپارٹمنٹ میں وفات پا گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹینر ایک خوش مزاج اور دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔
ٹینر اور شی نے IVF کے ذریعے 15 مئی کو ایک بیٹی، ایمی لو، کو خوش آمدید کہا تھا۔ اپنی آخری ویڈیو میں، ٹینر نے تمام فالوورز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن سے نرمی، محبت اور مثبت سوچ کی تلقین بھی کی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔