ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیا ہے، جس میں انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کو بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ خامنہ ای نے ان بیانات کو کھلا مبالغہ اور حقیقت سے چشم پوشی قرار دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں خامنہ ای نے کہاکہ "امریکی صدر نے جو زبان استعمال کی، وہ عام طور پر کی جانے والی مبالغہ آرائی سے کہیں بڑھ کر تھی، جس کا مقصد اصل حقیقت کو چھپانا تھا"۔انہوں نے مزید لکھاکہ "جس کسی نے بھی ٹرمپ کے الفاظ سنے، وہ یہ سمجھ گیا کہ ان کے پیچھے کوئی چھپی ہوئی حقیقت ہے۔ دراصل، وہ کچھ کر ہی نہ سکے، انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی، اس لیے انہوں نے مبالغہ کیا تاکہ سچائی پردے میں رہے"۔خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اگر ایران نیک نیتی دکھائے تو امریکہ اس پر عائد پابندیاں ہٹا سکتا ہے۔ٹرمپ نے امریکی چینل "فوکس نیوز" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ "ایران اس وقت جوہری منصوبے پر واپس جانے کا سوچ بھی نہیں رہا، وہ بہت تھکا ہوا ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس امریکی حملوں سے پہلے یورینیم منتقل کرنے کا وقت ہی نہیں تھا، اور حالیہ جنگ ایران کے لیے بہت مہنگی ثابت ہوئی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے صرف چند ہفتے دور تھا۔انہوں نے " یورینیم کی افزودگی کو ایک خطرناک اصطلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو یہ لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔13 جون سے ایران اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں، جو 12 دن تک جاری رہیں۔ اس دوران امریکہ نے بھی کھل کر مداخلت کی۔ہفتے کی شب امریکہ نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے۔ایران نے جوابی کارروائی میں قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹوں بعد اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: امریکی صدر خامنہ ای انہوں نے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی