نیدرلینڈز میں غزہ کے معصوم بچوں کے لیے دل دہلا دینے والا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
نیدرلینڈز کے شہر المیرے میں غزہ کے معصوم شہید بچوں کی یاد میں ایک منفرد اور پراثر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس میں ہزاروں بچوں کے جوتے سڑک پر رکھے گئے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔
یہ احتجاج اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ ٹاؤن اسکوائر پر منعقدہ اس پرامن مظاہرے میں شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاحی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔
احتجاج کا منظر دیکھنے والوں کے لیے انتہائی جذباتی اور دردناک تھا، جہاں زمین پر بکھرے معصوم بچوں کے جوتے عالمی خاموشی پر سوالیہ نشان بنے نظر آئے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس بھی نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران 8 ہزار بچوں کے جوتے رکھ کر اسرائیلی مظالم کے خلاف پرزور احتجاج کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ اس وقت شدید قحط، پانی اور طبی امداد کی قلت جیسے خطرناک انسانی بحران کا شکار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بچوں کے
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن