پنجاب میں پلاسٹک فری مہم شروع؛ 75 مائکرون سے کم وزنی بیگز پر مکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
حکومت پنجاب نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’’پلاسٹک فری پنجاب پلیج مہم‘‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ادارہ ماحولیات پنجاب کی زیر نگرانی چلنے والی اس مہم کا مقصد سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کا خاتمہ اور صاف ستھری فضا کی جانب عملی پیش رفت ہے۔سیکرٹری ماحولیات پنجاب صلوت سعید نے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ اور دیگر افسران کے ہمراہ مختلف کاروباری مراکز کا دورہ کیا اور پلاسٹک فری پنجاب مہم میں تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ 75 مائکرون سے کم موٹائی یا اور 12x16 انچ سے چھوٹے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس پابندی پر عملدرآمد کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مہم کے تحت کاروباری اداروں کو پابندی شدہ پلاسٹک بیگز کے استعمال سے گریز کرنے اور ماحول دوست متبادل اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ سیکریٹری ماحولیات کا کہنا تھا کہ ’’پلاسٹک فری پنجاب پلیج‘‘ماحولیاتی بہتری اور شہری صحت کے لیے ایک انقلابی اقدام ہے جو صاف اور سرسبز پنجاب کی ضمانت بنے گا۔ادارہ ماحولیات پنجاب کے ترجمان ساجد بشیر کے مطابق مہم کا آغاز 5 جون 2024 کو کیا گیا، جس کے بعد پلاسٹک سے متعلق قانون کی منظوری کے بعد کارروائیوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ اب تک 2 لاکھ 63 ہزار 163 کلوگرام غیرقانونی پلاسٹک بیگز ضبط کیے جا چکے ہیں جبکہ 9000 سے زائد نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔سیکریٹری ماحولیات صلوت سعید نے واضح کیا کہ سنگل یوز پلاسٹک ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہا ہے اور اس سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب 75 مائکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک بیگز نہ بنیں گے اور نہ استعمال ہوں گے۔ادارہ ماحولیات نے عوام اور تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں اور اس مہم کا حصہ بن کر ماحولیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ماحولیات پنجاب پلاسٹک بیگز پلاسٹک فری
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔