اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہمارا ایک مینڈیٹ 8 فروری 2024 کو چوری ہوا، ہمارے باقی کے مینڈیٹ پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔
ایک بیان میں  شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مخصوص نشستوں کو دیکھیں تو اس کا ایک پس منظر ہے، ملک میں آئین اور انصاف نہیں ہے، مخصوص نشستوں کو مال غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پوری قوم کی امنگوں کو گھونٹ دیا گیا ہے، یہ وہ پاکستان ہے جس میں سچ بولنا جرم بن چکا ہے، ہم ایسی ریاست میں ہیں جہاں نظام مفلوج ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں بے ضمیروں کی منڈیاں لگیں، خرید و فروخت ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے جمہوری مزاحمت کی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 180 سیٹیں جیتیں لیکن 17 سیٹوں والی جماعت کو 110 سیٹیں دے کر حکومت پکڑا دی، آج سارے کا سارا عدالتی نظام تباہ ہوچکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، اڈیالہ جیل کے باہر شام 4 بجے تک روکے رکھتے ہیں پھر کہتے ہیں وقت ختم ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ بانی سے ملاقاتیں بحال کی جائیں، ہم تمام آئینی و قانونی فورمز استعمال کرتے رہیں گے، دنیا دیکھ رہی کہ پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ کے دوران ہمارے اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا، ہمارے 26 لوگوں پر پابندی لگا دی گئی، اپوزیشن کے 10 لوگوں پر 20 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا گیا۔
رہنما پی ٹی آئی ے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز 9 مئی سے لے کر آج تک دہشت گردی کے پرچے برداشت کر رہے ہیں، سپیکر پنجاب اسمبلی صاحب کے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن