اسلام آباد:

وزیرآئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ گوگل، ہواوے، مائیکروسافٹ 5 لاکھ پاکستانیوں کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کریں گے، مفت عوامی وائی فائی کیلئے مخصوص مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد کو پائلٹ اسمارٹ سٹی بنانے کی ہدایت کی ہے، وزارت نے اسلام آباد کے تمام پبلک اسکولز، بی ایچ یوز اور ہیلتھ سیکٹرز کو فائبر فراہم کرنے کی فنڈنگ کر دی، اگلے چھ سے آٹھ ماہ میں اسپتال، اسکولز اور پولیس اسٹیشن فائبرائز ہو جائیں گے، مفت عوامی وائی فائی کیلئے مخصوص مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے، میٹرو بس اور عوامی مقامات پر وائی فائی کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم ہمارے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، دور دراز علاقوں میں ایڈ ٹیک کے ذریعے تعلیمی سہولت فراہم کریں گے، اے آئی اور ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کو چھٹی جماعت سے شروع کر کے کنڈرگارٹن تک لے جائیں گے، وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اسلام آباد کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، یہی منصوبہ گلگت بلتستان اور دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے، ٹیکنالوجی کے ذریعے ریموٹ اسکولز میں بھی تعلیم ممکن بنائیں گے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ ہیلتھ منسٹر کے ساتھ مل کر ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ پر کام کر رہے ہیں، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے تمام بی ایچ یوز میں انٹرنیٹ پہنچایا جائے گا، آن لائن ماہرین سے مشاورت کی سہولت ہر جگہ فراہم کریں گے، وزیراعظم نے نصاب میں آئی ٹی تعلیم شامل کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ ہدف ہے کہ پانچ لاکھ نوجوانوں کو جدید آئی ٹی اسکلز کی تربیت دی جائے، دو لاکھ بچوں کو گوگل، تین لاکھ کو ہواوے اور دو لاکھ کو مائیکروسافٹ ٹریننگ دے گا، بچے، بچیاں پرائمری سطح پر اے آئی سیکھ کر آگے بڑھیں گے، ملکی آئی ٹی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام آباد نے کہا کہ آئی ٹی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے