کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کو مزید کمزور کرنے میں مصروف ہے جبکہ ضرورت اسے مضبوط کرنے اور ہر بچے تک یکساں، آسان و معیاری تعلیم پہنچانے کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کی تعداد لگاتار گھٹتی جا رہی ہے۔ جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، اس کے مطابق بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ہزاروں سرکاری اسکول بند ہو رہے ہیں اور کئی اسکولوں کو ضم بھی کیا جا رہا ہے۔ اس تعلق سے پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی کا ترقیاتی ماڈل غریبوں سے، خصوصاً ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلباء سے حقوق تعلیم چھیننے والا ماڈل ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ تبصرہ اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل سے کیا ہے۔

راہل گاندھی نے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ اترپردیش میں 5000 سے زائد سرکاری اسکول بند کئے جا رہے ہیں۔ 2014ء سے اب تک ملک بھر میں 84 ہزار 441 سرکاری اسکول بند کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر 3 بی جے پی حکمراں ریاستوں اترپردیش، مدھیہ پردیش اور آسام میں بند ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو پیش کرنے کے بعد راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ یہ صرف اسکول بند کرنا نہیں ہے، بلکہ آئین میں دیے گئے حقوقِ تعلیم اور یو پی اے حکومت کے اس تاریخی قانون پر براہ راست حملہ ہے، جس نے ہر گاؤں کے بچے کو اسکول تک پہنچایا اور داخلہ کی تعداد میں تاریخی اضافہ کیا تھا۔

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے تعلیم کی اہمیت بھی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بھیم راؤ امبیڈکر نے کہا تھا کہ تعلیم شیرنی کا دودھ ہے، جو پیے گا وہ دہاڑے گا، لیکن آج تعلیم ہی چھینی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اسکول بند کرنے کے فیصلہ کے خلاف طلباء اور اساتذہ سڑکوں پر ہیں لیکن حکومت ان کی آواز سننے کی جگہ انہیں پریشان کرنے اور تعلیمی نظام کو مزید کمزور کرنے میں مصروف ہے جبکہ ضرورت اسے مضبوط کرنے اور ہر بچے تک یکساں، آسان و معیاری تعلیم پہنچانے کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکاری اسکول راہل گاندھی اسکول بند بی جے پی

پڑھیں:

گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال

فائل فوٹو

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت