آزاد کشمیر: تحریک انصاف کے دو اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کو آزاد کشمیر میں بڑا جھٹکا، دو اہم اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔
پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور سے سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئیں جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
فریال تالپور سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر و ایم ایل اے چودھری رفیق نیئر اور وزیر ٹرانسپورٹ جاوید بٹ کی ملاقات ہوئی۔
زرداری ہاؤس کراچی میں ملاقات کے دوران چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ نے اپنے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سردار تنویر الیاس نے کہا کہ کشمیر کاز کو مضبوطی سے آگے بڑھانے اور آزاد کشمیر کی ترقی و بہبود کا واحد سیاسی پلیٹ فارم قائدِ عوام شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے، اس کی قیادت اب بلاول بھٹو کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
فریال تالپور نے چودھری رفیق نیئر اور جاوید بٹ کو ان کے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر و پی پی پی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری فیصل ممتاز اور چودھری محمد ریاض بھی موجود تھے۔
اسرائیلی فوج کی غزہ پر شدید بمباری، 95 فلسطینی شہید ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چودھری رفیق نیئر اور پیپلز پارٹی میں جاوید بٹ
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔