کراچی ( نیوزڈیسک) پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے مالی سال کا شاندار آغاز ہوا ہے، مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے، مارکیٹ میں زبردست تیزی کے نتیجے میں ایک نیا سنگ میل عبور ہوگیا ہے۔

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 1100 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس ایک لاکھ 26 ہزار 669 پوائنٹس کیساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

بعد ازاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی وجہ سے حصص کی خرید و فروخت میں تیزی کا رجحان جاری رہا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 1248 پوائنٹس کا اضافہ ہونے سے انڈیکس ایک لاکھ 26 ہزار 876 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کے لیے 3ارب 40 کروڑ کا قرض رول اوور کیے جانے سے گزشتہ مالی سال اختتام تک آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے اور امریکا کے ساتھ متوقع تجارتی معاہدوں کے باعث پاکستان سٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کا رحجان برقرار رہا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی جس کے باعث 100 انڈیکس 1248 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 25 ہزار 627 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز 20 ارب 30 کروڑ 13 لاکھ 57 ہزار 542 روپے مالیت کے 25 کروڑ 89 لاکھ 93 ہزار 624 شیئرز کا لین دین ہوا تھا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں زبردست تیزی مارکیٹ میں

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم