نو مئی کیسز میں فوادچوہدری کی دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نےنومئی کے کیسز میں چالان سمیت دیگر دستاویزات کی نقول کے حصول کیلئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی درخواست خارج کردی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق لاہورہائیکورٹ نےفواد چوہدری کی چالان سمیت دیگردستاویزات کی نقول کیلئےدرخواست پرفیصلہ سنا دیا، عدالت نےفوادچوہدری کی دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے فواد چوہدری کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گذار کو 9 مئی کے کیسز میں حقائق کے برعکس ملوث کیا گیا،عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
مودی سرکار کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں خواتین مسلسل عدم تحفظ کا شکار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی درخواست
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔