سپریم کورٹ: فواد چوہدری کی مقدمات یکجا کرنے کی استدعا، پنجاب حکومت کا بینچ پر اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
سپریم کورٹ میں 9 مئی واقعات سے متعلق درج متعدد مقدمات کے خلاف فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی واقعے پر متعدد ایف آئی آرز درج نہیں کی جا سکتیں اور تمام مقدمات کو یکجا کرکے ایک ہی ٹرائل چلایا جائے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ فواد چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی واقعے پر مختلف تھانوں میں 35 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جو قانون اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، اور یہ اقدام سیاسی انتقام کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری نے فواد چوہدری کو احمق کیوں کہا؟
بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں کارروائی پہلی ایف آئی آر کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے موجودہ بینچ پر اعتراض اٹھایا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فواد چوہدری نے لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے، اور آئینی طور پر اس اپیل کو 3 رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے۔
عدالت نے اس نکتے سے اتفاق کرتے ہوئے کیس کو سپریم کورٹ کی ججز کمیٹی کو بھجوا دیا، تاکہ اسے 3 رکنی بینچ کے روبرو مقرر کیا جا سکے۔ رجسٹرار آفس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ مقدمہ آئندہ سوموار کو 3 رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ فواد چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ فواد چوہدری فواد چوہدری سپریم کورٹ بینچ کے
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔