آسٹریلوی اسپنر نیتھن لائن ’سانگ ماسٹر‘ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے۔

آسٹریلوی اسپنر نیتھن لائن نے ٹیم کی فتح کے بعد گایا جانے والا روایتی نغمہ "انڈر دی سدرن کراس آئی اسٹینڈ" گانے کی ذمہ داری اب وکٹ کیپر ایلکس کیری کے حوالے کر دی ہے۔

 تاہم انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہداف میں اب بھی بھارت اور انگلینڈ میں سیریز جیتنا شامل ہے۔

نیتھن لائن کو یہ روایت مائیک ہسی سے 2013 میں ملی تھی جب ہسی نے سری لنکا کے خلاف ریٹائرمنٹ لی۔ تب لائن اپنے 18ویں ٹیسٹ میں تھے۔ وہ آسٹریلیا کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ تک "سانگ ماسٹر" رہنے والے کھلاڑی بنے۔

انہوں نے یہ ذمہ داری 12 سے 13 سال تک نبھائی اور ان 119 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم نے 67 فتوحات حاصل کیں۔ ان کے یادگار لمحات میں فل ہیوز کی وفات کے بعد ایڈیلیڈ اوول میں بھارت کے خلاف جیت کے بعد گایا گیا نغمہ اور 2013-14 کی ایشز میں 5-0 کی جیت شامل ہیں۔

نیتھن لائن کا کہنا تھا کہ یہ میری کرکٹ کیریئر کے سب سے خاص لمحات میں سے ایک رہا ہے لیکن اب وقت ہے کہ یہ ذمے داری کسی اور کو دی جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایلکس کیری اس کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔

یہ ذمہ داری کیری کو باقاعدہ طور پر بارباڈوس میں دوسرے دن کے کھیل کے بعد ایک خط کے ذریعے سونپی گئی۔

نیتھن لائن نے واضح کیا کہ ان کا ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ وہ اگلے کم از کم دو سال مزید کھیلنے اور بھارت و انگلینڈ میں سیریز جیتنے کے خواہشمند ہیں۔

لائن نے کہا کہ میری ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ بھارت اور انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتوں، اور وہ موقع ہمیں آئندہ کچھ برسوں میں دوبارہ ملے گا۔ ابھی ہمارا فوکس ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ میچز پر ہے، پھر ہوم سمر اور ایک اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل بھی ہدف میں شامل ہے۔

اگر نیتھن لائن موجودہ رفتار سے وکٹیں لیتے رہے تو وہ 600 سے زائد ٹیسٹ وکٹیں حاصل کر سکتے ہیں، اور شاید شین وارن کے 708 وکٹوں کے ریکارڈ کے قریب بھی پہنچ جائیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وارنی میرے لیے اب بھی سب سے عظیم بولر ہیں، میں خوش نصیب ہوں کہ ایک شاندار بولنگ اٹیک کا حصہ ہوں اور اپنی ٹیم کے لیے کردار ادا کر رہا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں اب تک کھیل رہا ہوں۔

نیتھن لائن اس وقت آسٹریلیا کے ان دو کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو 2012 کے دورہ ویسٹ انڈیز کا بھی حصہ تھے، دوسرے کھلاڑی مچل اسٹارک ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی