ایلون مسک کی ’پاگل پن والے اخراجات کا بل‘ منظور کرنے پر ’امریکا پارٹی‘ بنانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ایلون مسک کی ’پاگل پن والے اخراجات کا بل‘ منظور کرنے پر ’امریکا پارٹی‘ بنانے کی دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 1 July, 2025 سب نیوز
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ارب پتی مالک ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی سینیٹ نے حکومت کے اخراجات بڑھانے والا نیا بل منظور کیا تو وہ نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کریں گے۔
مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کہا: “جن اراکینِ کانگریس نے عوام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ملکی قرضے میں ریکارڈ اضافہ کیا، انہیں شرم آنی چاہیے۔ اگر یہ میری زندگی کا آخری کام بھی ہوا، تو میں انہیں اگلے الیکشن میں ہراؤں گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ: “اگر یہ بل منظور ہو گیا تو اگلے ہی دن ‘امریکا پارٹی’ بنائی جائے گی۔ ہمیں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جیسی ایک جیسی سوچ رکھنے والی ‘یونی پارٹی’ کا متبادل چاہیے۔”
یاد رہے کہ مسک نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکنز کی حمایت کے لیے 275 ملین ڈالر (تقریباً 27 کروڑ 50 لاکھ) خرچ کیے تھے، مگر اب وہ خود ٹرمپ کے پالیسی بل کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔
مسک کا کہنا ہے کہ یہ بل اگلے 10 سالوں میں امریکی بجٹ خسارے کو 3.
سینیٹ میں زیر غور بل میں ٹیکس کٹوتیاں، سرکاری اخراجات میں کمی، اور کچھ آمدنی بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ لیکن مسک کا ماننا ہے کہ یہ بل مستقبل کی معیشت (برقی گاڑیاں، جدید توانائی) کی بجائے ماضی کی صنعتوں کو فائدہ دیتا ہے۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ارب پتی مالک ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی سینیٹ نے حکومت کے اخراجات بڑھانے والا نیا بل منظور کیا تو وہ نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کریں گے۔
مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کہا: “جن اراکینِ کانگریس نے عوام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ملکی قرضے میں ریکارڈ اضافہ کیا، انہیں شرم آنی چاہیے۔ اگر یہ میری زندگی کا آخری کام بھی ہوا، تو میں انہیں اگلے الیکشن میں ہراؤں گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ: “اگر یہ بل منظور ہو گیا تو اگلے ہی دن امریکا پارٹی بنائی جائے گی۔ ہمیں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جیسی ایک جیسی سوچ رکھنے والی ‘یونی پارٹی کا متبادل چاہیے۔”
یاد رہے کہ مسک نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکنز کی حمایت کے لیے 275 ملین ڈالر (تقریباً 27 کروڑ 50 لاکھ) خرچ کیے تھے، مگر اب وہ خود ٹرمپ کے پالیسی بل کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔
مسک کا کہنا ہے کہ یہ بل اگلے 10 سالوں میں امریکی بجٹ خسارے کو 3.3 ٹریلین ڈالر تک بڑھا دے گا، جس سے آنے والی نسلیں ’’قرض کی غلامی‘‘ میں چلی جائیں گی۔
سینیٹ میں زیر غور بل میں ٹیکس کٹوتیاں، سرکاری اخراجات میں کمی، اور کچھ آمدنی بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ لیکن مسک کا ماننا ہے کہ یہ بل مستقبل کی معیشت (برقی گاڑیاں، جدید توانائی) کی بجائے ماضی کی صنعتوں کو فائدہ دیتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں خاموش مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی مسلم یونیورسٹیز نے عالمی رینکنگ میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر: شام پر اقتصادی پابندیاں ختم، کیوبا پر دوبارہ لاگو دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری غزہ: اسرائیلی بمباری میں فلسطینی فلمساز اور صحافی اسماعیل ابو حطاب شہید امریکا نے اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کر دیا نئے دور میں پارٹی کے خود انقلاب کے تقاضوں کو مزید عملی جامہ پہنایا جائے ، چینی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکا پارٹی ایلون مسک
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان