حکومت سے مذاکرات کریں، پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو تجویز دے دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسیر رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو حکومت سے مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے، تاہم انہوں نے یہ تجویز بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے مشروط کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پی ٹی آئی کو 10 محرم کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کی ہدایت
پی ٹی آئی کے قید رہنماؤں کی جانب سے پارٹی قیادت کے نام ایک کھلا خط لکھا گیا ہے۔ اس خط میں حکومت سے مذاکرات پر زور دیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ مذاکرات کا آغاز اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک عمران خان سے ملاقات نہ ہو جائے۔
یہ خط پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی، سابق وزرا میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔
خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات نہ صرف سیاسی سطح پر ضروری ہیں بلکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ بھی ان کا انعقاد ناگزیر ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا آغاز سیاسی سطح سے کیا جائے اور تحریک انصاف لاہور کے اسیر رہنماؤں کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو مائنس کیا جارہا ہے، علی امین گنڈاپور ایم پی ایز کو لے کر اڈیالہ کے باہر بیٹھ جائیں، علیمہ خان
مزید یہ کہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے لیے بانی چیئرمین عمران خان تک رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ پارٹی قیادت مشاورت کا دائرہ وسیع کر سکے، اور یہ ملاقاتوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رکھا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسیر سیاسی قیادت پی ٹی آئی حکومت مذاکرات مذاکرات کی تجویز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسیر سیاسی قیادت پی ٹی ا ئی حکومت مذاکرات مذاکرات کی تجویز وی نیوز پارٹی قیادت کہ مذاکرات گیا ہے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔