پی ٹی آئی کے گرفتار رہنمائوں کا جیل سے خط، حکومت اور پارٹی رہنماؤں کو مذاکرات کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
فائل فوٹو۔
تحریک انصاف کے گرفتار سینئر رہنماؤں نے جیل سے تحریر کیے گئے خط میں حکومت اور جماعت کے رہنماؤں کو مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔
لاہور سے پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز احمد چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے جیل سے خط تحریر کیا ہے۔
خط کے مطابق پی ٹی آئی کے پانچوں رہنما حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں۔ بدترین بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، سیاسی سطح پر بھی مذاکرات ضروری ہیں۔
متن کے مطابق سیاسی اور مقتدرہ کی سطح پر بھی مذاکرات ضروری ہیں۔ خط میں مشورہ دیا گیا کہ مذاکرات میں گرفتار رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی کہتے ہیں حکومت 27 ویں ترمیم کے بجائے بادشاہت کا اعلان کردے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا آغاز کرنے پر کسی فریق کو مطعون کرنا اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا، اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
خط کے متن کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کی تقرری کیلئے پیٹرن انچیف تک رسائی آسان اور ممکن بنانی ہوگی اور ملاقات کے اس عمل کو وقتاً فوقتاً جاری رکھنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔