بجٹ سیشن میں اپوزیشن احتجاج ہی کرتی ہے، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور:
رہنما پیپلزپارٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اگرآپ اس معاملے کو شروع سے دیکھیں تو جب پی ٹی آئی کا سمبل لیا گیا تھا الیکشن کمیشن کی جانب سے تو اس وقت یہ چیزیں سامنے آئی تھیں کہ ان کے انٹراپارٹی الیکشن صحیح طریقے سے نہیں ہوئے، پی ٹی آئی کے جو وکلا تھے وہ اس معاملے کو ڈیفنڈ نہیں کر پائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے، یہ معاملہ وہاں سے چلا آرہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگست2024میں قومی اسمبلی الیکشن ایکٹ2017میں ایک ایمنڈمنٹ لائی کہ اگر آپ اینڈیپنڈنٹ لڑتے ہیں اور بعد میں کسی جماعت کو جوائن کرتے ہیں تو آپ ریزرو سیٹس نہیں کلیم کر سکتے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ جو قانون بنا ہے میں اس پر بھی تھوڑی روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کیونکہ پی ٹی آئی بار بار کہہ رہی ہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، بات یہ ہے کہ یہ قانون بنایا کس نے تھا کہ انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرایا تو الیکشن سمبل لے لیا جائے گا، یہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں بنایا تھا اور انھوں نے بنایا تھا اپنے مخالفین کے لیے تاکہ اگلا الیکشن جب رگ کرنا ہو تو اپنے مخالفین کو انٹرا پارٹی الیکشنوں میں الجھا کر ان سے سمبل لے لیں، پی ٹی آئی کی غیر جمہوری حرکتوں کا ملک کو بھی نقصان ہوا اور ان کو بھی نقصان ہوا۔
رہنما تحریک انصاف ملک احمد خان بھچر نے کہا بجٹ سیشن ہوتا ہے اور بجٹ سیشن میں اپوزیشن ہمیشہ احتجاج کرتی ہے، اس سے بڑے بڑے احتجاج ہو ئے ہیں، اسپیکر صاحب چونکہ خود قانون جانتے ہیں ان کو پتہ ہے لیکن ان پر دباؤ پڑا ان کے خیال میں محترمہ جو چیف منسٹر ہیں ادھر کی اس کی ریڈ لائن کراس کی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ یہ ہیں کہ پنجاب میں کمیٹیاں واپس لے لیں، جس طرح کی فسطائیت اور 47کی گورنمنٹ ہے، ویسے کمیٹیوںکا میں آپ کو یہ کلیئر کر دوں یہ سمبولک ہوتی ہیں، ان کمیٹیوں میں پہلے ہی گورنمنٹ کے ممبران کی اکثریت ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ پنجاب میں اس وقت فسطائیت ہے۔
سربراہ پلڈاٹ احمد بلال محبوب نے کہاکہ یہ جزوی طور پر تحریک انصاف کی غلطیوں کا نتیجہ ہے لیکن کچھ غلطیاں ایسی بھی تھیں جو پی ٹی آئی کی نہیں تھیں، الیکشن کمیشن نے بھی کچھ باتوں کو غلط سمجھا تھا اس کے اندر جو بڑے لیگل اسکول آف تھاٹس ہیں، ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پانچ اراکین میں سے ایک کی رائے یہی تھی کہ یہ نشستی پی ٹی آئی کو تو نہیں دی جا سکتیں، یہ نشستیں دوسری پارٹیوں کو بھی نہ دی جائیں لیکن الیکشن کمیشن میں اکثریت کی رائے یہی تھی کہ یہ تقسیم کر دی جائیں، یہ خالی نہیں رکھی جا سکتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔