Islam Times:
2026-07-24@02:53:20 GMT

اسرائیلی فوج کا خان یونس کا علاقہ فوری خالی کرنیکا حکم

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

اسرائیلی فوج کا خان یونس کا علاقہ فوری خالی کرنیکا حکم

اسرائیلی فوج نے غزہ سے 2 راکٹ اسرائیل پر داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ یمن سے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ اور یمن سے داغے گئے میزائل کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کا علاقہ فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج بھرپور قوت سے کارروائی کر رہی ہے، راکٹ لانچ کرکے کسی بھی مقام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سے 2 راکٹ اسرائیل پر داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ یمن سے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ اور یمن سے داغے گئے میزائل کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے نمائندوں کی اسرائیلی حکام سے غزہ کی صورتِ حال پر آج طویل و نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 60 روز کے دوران جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے تمام پارٹیز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے غزہ اسرائیل پر کا دعوی کیا ہے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم