محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے  سخت فیصلے کیے گئے ہیں، ایک ہزار 421 ڈاکرین و مقررین کی ضلع بندی اور 809 کی زبان بندی کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز کی بھی خدمات لی جائیں گی۔

بدھ کے روز سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے پروونشل انٹیلیجنس سینٹر کا دورہ کیا اور مرکزی کنٹرول روم سے صوبہ بھر میں محرم الحرام کے جلوسوں و مجالس کی لائیو مانیٹرنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ملک بھر میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ

 اس موقع پر پروونشل انٹیلیجنس سینٹر افسران نے صوبہ بھر میں موجودہ صورتحال بارے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں محرم الحرام کے دوران 3 لاکھ 7 ہزار 87 مجالس اور 9 ہزار 825 جلوسوں کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ تمام مجالس اور جلوسوں کو حساسیت کے مطابق کیٹیگری اے، بی اور سی  میں تقسیم کیا گیا ہے، تاہم سیکیورٹی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر کی مجالس اور جلوسوں کی میپ پر جیو ٹیگنگ کی گئی ہے اور تمام مقامات کو جدید کیمروں سے سینٹرل کنٹرول روم میں مانیٹر کیا جارہا ہے، صوبے کے میں 1 ہزار 421 ذاکرین و مقررین کی ضلع بندی اور 809 کی زباں بندی کے احکامات جاری ہوئے جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے پنجاب میں 1 ہزار 444 افراد کو شیڈول فور میں رکھا گیا ہے۔

 صوبہ بھر میں 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار محرم الحرام سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں جنکی امداد کے لیے آرمی کی 59 اور رینجرز کی 79 کمپنیاں تعینات کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں محرم الحرام سے متعلق سخت فیصلے، کن چیزوں پر پابندی ہوگی؟

 ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ پاکپتن میں عرس بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رح کے انتظامات مکمل ہیں اور آج شام سے پاکپتن میں بہشتی دروازہ زائرین کے لیے کھولا جارہا ہے۔ اسی طرح حضرت علی بن عثمان ہجویری رح کے مزار پر غسل کی تقریب 9 محرم الحرام کو ہو گی جس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

 سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے سائبر پٹرولنگ سیل سے قابل اعتراض مواد کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔

‘تمام انتظامیہ اور پولیس پوری طرح مستعد ہیں

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں جاکر انتظامات کا جائزہ لیا تمام انتظامیہ اور پولیس پوری طرح مستعد ہیں۔ تمام مرکزی مجالس اور جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور فزیکل اسپیس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اسپیس کو بھی محفوظ بنایا جارہا ہے۔

مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی اور گرفتاریاں

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے اور اب تک مختلف اضلاع سے 50 سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے لیے خصوصی ای پورٹل تیار کیا گیا جو تمام اضلاع سے منسلک ہے، ای پورٹل پر محرم الحرام کے حوالے سے تمام معلومات رئیل ٹائم اپڈیٹ ہورہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ: 9 اور 10 محرم الحرام کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد، دفعہ 144 نافذ

محرم الحرام انتظامات کی نگرانی کے لیے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان، پاکستان علما کونسل اور اتحاد بین المسلمین کمیٹی نے صوبہ بھر کا دورہ کیا۔

انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ امن و امان کے لیے محکمہ داخلہ کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر اسپیشل سیکریٹری داخلہ فضل الرحمان، ایڈیشنل سیکریٹری انٹرنل سیکیورٹی احسان جمالی، ایڈیشنل سیکریٹری ہوم عاصمہ چیمہ اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پنجاب زباں بندی سیکیورٹی ضلع بندی محرم الحرام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیکیورٹی محرم الحرام محرم الحرام کے داخلہ پنجاب مجالس اور گئے ہیں کے لیے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش