لاہور:پاک بھارت ہاکی مقابلوں میں بھی کرکٹ کی طرح ہائبرڈ ماڈل کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں، چیف کوچ طاہر زمان نے تجویز دی کہ اگر دونوں روایتی حریف ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں کھیلنے کے لیے تیار نہ ہوں تو نیوٹرل وینیو پر میچز منعقد کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارتی کرکٹ بورڈ میں رواں برس ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ٹیمیں اپنے ممالک میں شیڈول عالمی ایونٹس کے میچز کسی تیسرے وینیو پر کھیلیں گی، اب ہاکی میں بھی ایسے ہی کنٹریکٹ کیلیے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے چیف کوچ طاہر زمان نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان ٹیم کو بھارت میں شیڈول ہاکی ایشیا کپ میں حصہ لینا ہے مگر وہاں حکومتی منظوری نہ ملنے کے باعث معاملات تعطل کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں قوانین کو بخوبی جانتا ہوں، ان کی روشنی میں یہ فیصلے پاکستان یا بھارت کی مرضی سے نہیں بلکہ ایف آئی ایچ یا ایشین ہاکی فیڈریشن قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں، ہماری تیاری بھرپور ہے، سرحد پار جانے کا حتمی فیصلہ حکومت کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا، اس مسئلے کا مستقل حل کرکٹ کی طرح ہائبرڈ ماڈل اپنانا ہے، عالمی ایونٹس میں دونوں ٹیموں کواگر ایک دوسرے کے ملک جانے میں مسئلہ ہے تو نیوٹرل وینیو پر کھیلیں۔

چیف کوچ نے کہا کہ ایف آئی ایچ نیشنز کپ کے فائنل تک ٹیم کی رسائی بڑی کامیابی ہے، اس نے نہ صرف کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے بلکہ شائقین کو ایک بار پھر ہاکی سے جوڑ دیا، فائنل کے آغاز ہی میں 2گول ہونے سے ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا، اس کا اثر کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج میں بھی واضح طور پر دکھائی دیا، مقابلے کے دوران ٹیم میں وہ توانائی اور جذبہ نظر نہیں آیا جو ایسے مرحلے کے لیے درکار ہوتا ہے، یہ میچ ہمارے لیے ایک سبق ہے، ہم نے اس سے سیکھا کہ ایسے مواقع پر ذہنی طور پر زیادہ تیار اور پختہ ہونا ضروری ہے۔

مالی حالات اور ڈیلی الاؤنسز کی عدم فراہمی جیسے سوال پر ہیڈ کوچ نے کہا اگرچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کھلاڑیوں کو مکمل مالی سپورٹ حاصل نہیں، مگر اس کے باوجود وہ غیر معمولی جذبے کے ساتھ ہاکی کھیل رہے ہیں، جب تک ہم پلیئرز کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتے جن کے وہ مستحق ہیں ہم ان سے مستقل عالمی معیار کی کارکردگی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ ٹیم نے اپنی کارکردگی سے حکام کی توجہ حاصل کرلی اور اب ان مسائل کو حل کرنے کا وقت ہے، کھلاڑی جانتے ہیں کہ یہ وقت ان کے مسائل کو عوام اور فیصلہ سازوں تک پہنچانے کا بہترین موقع ہے، سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر یہ ٹیم بغیر سہولیات کے یہ کارنامے انجام دے سکتی ہے تو مکمل سپورٹ کے ساتھ کہاں تک پہنچ سکتی ہے، اب حکومت، اداروں اور نجی شعبے کو بھی قدم بڑھانا ہوگا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی