سانحہ سوات: تجاوزات کیخلاف کارروائیوں سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
دریائے سوات پر پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کے بعد سوات کی ضلعی انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کر دی۔
رپورٹ کے مطابق کنجو پل سے فتح پور بائی پاس تک دریا کے کنارے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
آپریشن کے دوران 65 غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا جن میں دکانیں، ہوٹل اور تفریحی پارک شامل ہیں۔
کارروائی کے نتیجے میں 15.
رپورٹ کے مطابق واگزار کرائی گئی زمین کی مالیت تقریباً 6 کروڑ 75 لاکھ روپے ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک آپریشن کے دوران 65 غیر قانونی تعمیرات گرائی گئی ہیں، جن میں دکانیں، ہوٹل اور پارک شامل ہیں۔
دوسری جانب تجاوزات قائم کرنے میں ملوث 25 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں جبکہ آپریشن کے دوران غیر قانونی بور ویل، ویٹنگ اسکیل اور دیگر سامان بھی ضبط کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن ضلعی انتظامیہ کی قیادت میں کیا گیا جس میں محکمۂ مال، پولیس، ٹی ایم اےاور واپڈا سمیت دیگر متعلقہ اداروں نے بھی حصہ لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق کے خلاف
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔