پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ و قومی اسمبلی ارکان کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ و قومی اسمبلی ارکان کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔
تحریک انصاف کی پارلمیانی پارٹیوں کے ارکان کو کے پی ہاؤس بلا لیا گیا۔
کے پی کے ہاؤس اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوں گے۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دو دو نشستیں مل گئی ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی خواتین کی 5 مخصوص نشستیں بحال کر دیں۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دو دو جبکہ خیبرپختونخوا کی 1 مخصوص نشست جے یو آئی کو مل گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی میں خواتین کی 11 مخصوص نشستیں بحال کر دی گئی ہیں، 10نشستیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ایک مخصوص نشست مل گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی 3 نشستیں بھی بحال کردی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو ایک ایک اقلیتی نشست مل گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔