آئی فون صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: ایک سے زیادہ واٹس ایپ اکاؤنٹس اب ایک ہی فون پر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آخرکار جس فیچر کا انتظار تھا، وہ آئی فون صارفین کو بھی ملنے والا ہے۔ واٹس ایپ نے ایک ایسے فیچر کی آزمائش شروع کر دی ہے جس سے اب ایک آئی فون میں ایک سے زیادہ واٹس ایپ اکاؤنٹس چلانا ممکن ہوگا۔
اب تک آئی او ایس صارفین کو ایک وقت میں صرف ایک ہی واٹس ایپ اکاؤنٹ استعمال کرنے کی سہولت حاصل تھی، جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کافی پہلے سے یہ سہولت استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم اب آئی او ایس بیٹا ورژن میں یہ فیچر شامل کر لیا گیا ہے۔
WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ کے آئی فون ورژن کے بیٹا اپڈیٹ میں ایک نیا “اکاؤنٹ لسٹ” پیج بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں صارف وہ تمام اکاؤنٹس دیکھ اور منتخب کر سکے گا جو ایک ہی ڈیوائس پر استعمال ہو رہے ہوں گے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اس فیچر کے ذریعے آپ کو بار بار لاگ آؤٹ یا ایپ ری اسٹارٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صرف ایک کلک سے آپ دوسرے اکاؤنٹ پر سوئچ کر سکتے ہیں — اور ساتھ ہی اس اکاؤنٹ کی چیٹ ہسٹری، سیٹنگز اور نوٹیفکیشنز بھی سامنے آجائیں گے۔
واٹس ایپ کی جانب سے نوٹیفکیشن سسٹم میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو یہ جاننے میں آسانی ہو کہ کون سا پیغام کس اکاؤنٹ پر آیا ہے۔ نوٹیفکیشن پر کلک کرتے ہی متعلقہ اکاؤنٹ اور چیٹ خود بخود کھل جائے گی۔
یہ فیچر خاص طور پر اُن صارفین کے لیے مفید ہے جو واٹس ایپ کو ذاتی اور دفتری دونوں مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اب وہ ایک ہی فون پر باآسانی اپنے ذاتی اور کاروباری اکاؤنٹس الگ رکھ سکیں گے، بغیر کسی جھنجھٹ کے۔
تاہم، چونکہ یہ فیچر فی الحال صرف بیٹا ورژن میں موجود ہے، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عام صارفین کے لیے یہ کب تک دستیاب ہو پائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹس ایپ ا ئی فون ایک ہی کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔